ہم کے بارے

پرانا والا تو پرانا ہو گیا ہم نے سوچا کہ نئے والا ‘ہم کے بارے’ لکھتے ہیں، ویلے تو بیٹھیں ہیں (جو کہ ہم ازلی ہیں اوپر سے کام چور بھی واقع ہوئے ہیں) تو اس ویلے وقت کا فائدہ اٹھایا جانا چاہئے اور ہم کے بارے لکھنا چاہئے۔ مارنی تو بڑکیں ہی ہیں بیچ میں کہیں کہیں سچ ڈال دیں گے۔ سچ بھی ویسے آلو ہی ہو گیا، ہر بات میں تھوڑا سا ہوتا ہے باقی کوئی اور سبزی ہوتی ہے۔

تو قارین بہت دن پہلے کی بات ہے بلکہ اب تو عرصہ ہو گیا فرعون اس وقت نیا نیا مرا تھا، (جھوٹ ہے) قائم علی شاہ نے فرعون کے سوگ میں اپنی نانوں والی دکان بند کر رکھی تھی (سچ ہے) تب ہی کرہ ارض پر ہمارا ظہورِ مبارک ہوا، شاید سورج گرہن کا مبارک دن تھا، ہر جگہ اندھیرا ہی اندھیرا پھیلا ہوا تھا، لوڈ شیڈنگ ہوگی، خیر جو بھی ہو ہم بہت چھوٹے تھے ہمیں ٹھیک سے یاد نہیں اب۔ لیکن اتنا یاد ہے کہ میاں صاب تب بھی ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی باتیں کیا کرتے تھے۔ خیر ہمیں دنیا میں آنا تھا آگئے، آبادی پہلے بھی کم نہیں تھی، اکثر یار دوست اب بھی کہتے ہیں کہ ہم نے دنیا میں آ کے رش ہی کیا ہے اور کوئی بڑا کارنامہ انجام نی دیا، محمد بن قاسم نے ہم سے کم عمر میں سندھ فتح کر لیا تھا لیکن جب ہم ان کی عمر کو پہنچے تو فتح کرنے کو کچھ تھا ہی نہیں، سندھ وہ خود فتح کر کے شاہ جی کے ہاتھ سونپ گئے تھے کہ لو بیڑا غرق کر دو اس کا تو ہم کیا فتح کرتے؟ حکومت اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی کہ ایک اور سندھ فتح کر کے ہمیں دے دیتی اس لئے ہم نے فتوحات والا سلسلہ موقوف کر دیا اور وہ وقت سونے میں گزارا (سونا بستر پر سونے والا)۔

ابتدائی تعلیم رو دھو کے حاصل کی، مشکل سے میٹرک کیا وہ بھی ملتان سے پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک چھوٹے سے قصبے چلے گئے۔ جیسے جگہ جگہ کا کھانہ مشہور ہوتا ہے اس کا تعلق ہوٹل کے سائز سے نہیں ایسے ہی وہاں کا کالج مشہور تھا وہاں سے جا کے ہم نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یہاں ایک سچ تو لازمی ڈالوں گا شو مارنا بھی کوئی چیز ہوتی ہے، خیر کالج کے پہلے دو سالوں (سال یعنی برس، رشتے والے سالے نہیں)، میں ٹاپ کر کے ایک نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کی لیکن رقم کی کمی وجہ سے ہمیں قلم نہ ملا اس لئے وہ تاریخ اب تک بے رقمی ہی پڑی ہوئی ہے، کالج والوں نے خوش ہو کے ہمیں لیپ ٹاپ دینے کا وعدہ کیا، تب تک تو کی بورڈ صرف ٹائپ رائیٹر کا ہی دیکھا تھا اس لئے خوش ہو گئے کہ لیپ ٹاپ ملنا ہے لیکن اب تک لیپ ٹاپ نہیں ملا۔ غالباً شاہ جی کو بنانے کے لئے دیا تھا وہ بنا رہے ہونگے، کہہ رہے تھے بیٹا شیخ صاحب جس دن شادی کر لیں آ کے اٹھا لینا۔ بس آگے آپ سمجھ جائیں۔

بس اس کے بعد ہم ایک نجی کمپنی میں نجی سا کام کرنے لگ گئے اب تک کئے جاتے ہیں اور کچھ کرنے کو ملا نہیں، دفتر میں دن گزرتا ہے سونے کے لئے گھر چلے جاتے ہیں اٹھتے ہیں تو دوبارہ دفتر آ مرتے ہیں۔ ذاتی صفات ہمارے اندر کوئی ہیں نہیں، لکھنے کے علاوہ کھانے کا شوق ہے جو مل جائے کبھی نہیں کھاتے، نخرے کرتے ہیں، کہ مرضی کا کھانہ چاہئے، چاولوں کے معاملے میں بنگالی واقع ہوئے ہیں جس شکل میں مل جائیں کھا لیتے ہیں صبر شکر کر کے، اکثر تو ناقدین کا کہنا کہ راہ چلتے کہیں سے چاول پکنے کی خوشبو بھی آجائے تو جہاں سے آرہی ہو اس گھر میں گھسنے سے بھی دریغ نہیں کرتے، ایسا واقعہ البتہ ہمیں یاد نہیں ہوا ہو، البتہ بچپن میں لوگوں کی گھنٹیاں بجا کے خوب بھاگے ہیں اکثر تو بجا کے واپس بھاگتے تھے پھر سکون سے ٹھہلتے ہوئے آئے اور صاحبِ گھر جب غصے میں باہر نکلے تو پکا سا منہ بنا کے کہہ دیا کہ جس نے بیل بجائی وہ سامنے کی طرف بھاگا تھا۔ پکڑے الحمدللہ کبھی نہیں گئے آج تک۔غصے کے ہم صدر واقع ہوئے ہیں، غصے میں ہوں اور کوئی مر بھی رہا ہو تو ہم پانی تک نہ پوچھیں۔

تاریخ سے دلچسپی پتا نہیں کیوں ہو گئی کہ ہم نے بلاگ تک بنا لیا ابھی جہاں آپ موجود ہیں یہ ہمارے ‘تاریخی’ کرتوت ہیں، سیکھا سُوکھا ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں، سچ پوچھیں تو ہمیں آج کی تاریخ بھی یاد نہیں، جیب خالی ہو جائے تو سمجھ جاتے ہیں کہ مہینہ ختم ہونے کو ہے، تنخواہ مل جائے تو ہپتا چل جاتا ہے کہ مہینہ شروع ہوا چاہتا ہے بس اس سے زیادہ نہ تو تاریخ کا ہمیں پتا نہ ہمیں پتا لگانے کا شوق ہے۔ آپ سے بھی گذارش ہے کہ ہمارے بارے یہی کچھ ہے اس کے علاوہ تو ہمیں خود بھی نہیں معلوم اپنے بارے میں، کہیں وکی لیکس پر کچھ آگیا ہو تو ہم کچھ کہہ نہیں سکتے۔

اللہ ہمیں ہدایت دے۔ سب کہو آمین۔