سکولی لائف

سکول میں داخلے کا وقت آیا تو  ابا جی چُن کے ایک سکول کا انتخاب کیا جس کے بارے مشہور تھا کہ تعلیم اچھی پائی جاتی ہے، پرنسپل کے بارے ابتدائی تحقیقاتی ٹیم نے یہ رپورٹ پیش کری کہ کوئی سخت قسم کی شخصیت ہیں اور فوج سے میجری لگا کے ریٹائر ہوئے ہیں۔پہلے پہل جب ہمیں حکم دیا گیا کہ اب سکول جانے کا وقت آگیا ہے تو ہم نے بہے ‘وکھت”ڈالا اور چیختے چلاتے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا کہ آیا ہمارا گھر میں رہنا برداشت نہیں ہوتا یا ہم سے کوئی "خاندانی” دشمنی نکالی جا رہی ہے جو بقول تحقیقاتی ٹیم ہمیں ایک ظالم سماجی سکول میں داخل کر وایا جا رہا ہے لیکن کسی نے ہماری نہیں سنی۔کچھ ملتان کی گرمی تو کچھ ابا جی کے غصے کی چار و ناچار ہمیں "قبول ہے” کہنا پرا اور ابا جی  ہمیں گاڑی میں ڈالا اور سکول کی وردی خریدنے کو بازار کی جانب چل پڑے۔

وردی دیکھ کر ہم نے فخر محسوس کیا کہ باقی جائیں سفید نیلے ہو کے اور ہم جائیں گے فوجی بن کے، پہلے پہلے وردی پہن، ٹائی لگا تایا جی نے ہمارا فوٹو شوٹ کرا جو ریکارڈ کی غرض سے اب بھی گھر  میں کہیں موجود ہے۔ ہم نے سنا تھا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن یہ سب کتابی باتیں ہیں، ایسا ہوتا تو کہیں ہم نے نہیں دیکھا۔ نہ ضیاء الحق دوبارہ آیا، نہ 71 کے بعد بھارت کی ہمت ہوئی کہ حملہ کرتا، نہ96 کہ 92 کے بعد پاکستان نے کوئی ورلڈ کپ جیتا  ہاں البتہ سیاسی تاریخ ہر تین، چار یا پانچ سال بعد اپنے آپ کو دہراتی ہے اور دو ہی پارٹیاں بار بار باریاں لگا کے آتی جاتی ہیں۔ کبھی ابا جی صدر ہیں تو کبھی اماں جی، اماں جی کے آگے ابا جی کی نہ چلے تو ابا جی رنڈوے ہونا منظور کر کے پانچ سال فخر سے مسند پر بر اجمان رہے۔لیکن یہ سیاسی باتیں ہیں اور سیاست سکول میں ہو کالج میں یا دفتر میں ہم ہمیشہ چند انچ دور ہی رہے ہیں۔کرتوت گواہ ہیں۔

پہلا دن دفتری ہو، سکولی ہو یا کالجی ہو ہمیشہ یادگار رہتا ہے۔ پہلے دن جب سکول میں وقت گزار کر گھر آئے تو اماں جی نے کافی خاطر تواضع کی (خاطر تواضع اماں جی کی ہو تو ابا جی والی خاطر تواضع سے قدرے مختلف پائی جاتی ہے)۔ سکول میں پہلا دن ایسا ہی تھا جیسے مریخ سے زمین پر پڑھائی کی غرض سے آئے ہوں اور باقی تمام انسان ہمیں ایسے دیکھ رہے تھے تھے جیسے ایک کان اضافی ہو یا ہماری مبارک پیشانی پر کوئی دجالی آنکھ نکل آئی ہو لیکن کچھ عرصے تک جیسے تیسے کر کے سب کو یقین آگیا کہ ہم انسان ہی ہیں اور باقی انسانوں نے ویسے ہی ہمیں منظور کر لیا جیسے کراچی والوں نے یہ منظور کر لیا کہ پتنگ ہی ان کی زندگی اور بقا کی ضامن ہے۔ہاں تو بات ہوئی تھی گھر آنے کی، ہمارا آنا تو کیا آنا ہم آتے ہی یہ دعا کر رہے تھے کہ ابا جی آج  اس وقت آئیں جب ہم سو رہے ہوں اور صبح اس وقت دفتر چلے جائیں جب ہم سو ہی رہے ہوں لیکن بھلا ایسی دعائیں بھی قبول ہوئی ہیں؟ اس دن ابا جی خلافِ معمول جلدی گھر آگئے اور ان کی گاڑی کا ہارن سن کر ہمارے رنگ واپس سکول چلے گئے۔

کہاں تک پڑھا؟ پہلا سوال

سات سے نو تک (یہ ہم نے دل میں کہا تھا)ورنہ در حقیقت اس وقت ہماری گھگی بندھی ہوئی تھی۔

بولتے نہیں؟ دوسرا سوال

وہ ۔۔ میں

کیا وہ میں

(حالت پتلی)

کب آیا تھا یہ سکول سے؟(یہ سوال اماں جی سے کیا گیا)

نو بجے ! اماں جی کا جواب

اس سے آگے کے واقعات نا قابلِ اشاعت ہیں لہٰذا  نہ تو ہم ان کا ذکر کر کے خود شرمندہ ہونگے نہ ہی ناقدین کو خوش ہونے کا موقع ہی فراہم کریں گے۔ البتہ یہ ضرور لکھنا چاہتے ہیں کہ اس دن کے بعد ہم نو کی بجائے دو بجے ہی گھر آیا کئے ۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس کے بعد ہماری کتے والی نہیں ہوئی، بلکہ در حقیقت سکول سے جلدی آنے پر کتے والی کبھی نہیں ہوئی۔ لیٹ ہم اس لئے نہیں آتے تھے کہ ہم زیادہ سوشل واقع نہیں ہوئے اس لئے کبھی ایسا کوئی بہانہ نہیں ملا کہ سکول سے کسی اور طرف منہ کر کے نکل جاتے۔سکول میں کئی  بارہماری اور ہمارے اہلِ جماعتوں کی کتے والی ہوئی جن میں بعض واقعات  تو سرے سے ہیں ہی ناقابلِ اشاعت اور جو اشاعت کے قابل ہیں وہ اس لئے شائع نہیں ہو سکتے کہ ہمارے ہم جماعت اب بھی  ہمیں ملتے جلتے رہتے ہیں۔

Comments