قصہ ایک اظہار کی آزادی کا

ہمیں ٹھیک طرح نہیں یاد کہ میڈیا دراصل کب پیدا ہوا، اچھی چیز ہے، آپکو با خبر رکھتی ہے پھر چاہے اس کے لئے خبر ملے یا بنانی پڑے ، خیر ہمارا تو تعلق ہی اس طبقہ فکر سے ہے جو آم کھانے پہ زیادہ دیہان رکھتے ہیں انہوں نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ آم کے پیڑ ہیں بھی یا نہیں، کھانے کو مل گئے تو صبر شکر کر کے کھالیا۔ خدا کے صابر بندوں کی نشانی ہوتی ہے یہ۔اچھے بھلے تھے ہم، پی ٹی وی کا دور تھا، سی این این بھی یہیں کہیں ہوتا تھا لیکن نظر نہیں آتا تھا۔ ایک انٹینا گھر کی چھت پر جسے گھُما لیا تو پی ٹی وی آگیا، مزید گھُما لیا تو ایس ٹی این یا ہوا تیز ہوئی تو بھارت کی طرف سے سونی پر سی آئی ڈی دیکھ لیا۔یہی اینٹر ٹینمنٹ تھی اور یہیں کہیں نو بجے کی خبروں میں یہ پتا لگتا تھا کہ دو پیڑوں پر نو آم لگے جن کو 7 افراد نے بالٹی میں برف والے پانی میں ٹھنڈا کر کے کھا لیا۔

سچ پوچھیں تو جب کیبل آئی اور طرح طرح کے پرائیویٹ چینل شروع ہوئے تو ہی ہمیں علم ہوا کہ بھیا صحافت کی دو اقسام ہیں ایک آزاد صحافت اور ایک وہ صحافت جو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہے۔اس سے پہلے تو صحافی ہوتے تھے اور صحافت ہوتی تھی۔ مقابلہ بازی شروع ہوئی تو جہاں پہلے ہم سیاسی مہروں کو ایکدوسرے کے معاملوں میں منہ مارتا دیکھتے تھے وہیں صحافیوں نے صحافیوں کی ماں بہن ایک کرنا شروع کر دی۔ عوام کنفیوز ہو گئی کہ سچا کون ہے۔لوگ بنٹ گئے، سوچ بنٹ گئی اور وہ قوم جو کسی دور میں ایک پی ٹی وی کے ارشاد کو حرفِ آخر سمجھ کر ایک ہی بات پر متفق ہو جاتی تھی اب اس بات پر لڑنے لگی کہ صرف میرا نظریہ ٹھیک ہے باقی سب گئے تیل لینے۔

پھر ایک نیا شوشا چھوڑا گیا۔ اظہار کی آزادی (freedom of speech) تو اس کا مقصد اور کچھ نہیں تھا بلکہ عوام میں جن لوگوں کی زبان زیادہ چلتی تھی ان کی زبان کو اپنے پیسے کے زور پر اپنے مطابق چلانا مقصود تھا۔ یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اظہار کی اس آزادی میں اظہارنے کی آزادی انہی کو حاصل تھی جو آزادی اظہار کے مامے، چاچے اور طائے لگتے تھے۔ عام آدمی ان کے نزدیک ایک بھونکنے والا کتا تھا جسے موٹر سائکل چلاتے جوان لات مار کر کسی بھی وقت کاؤں کاؤں کرنے پر مجبور کر سکتے تھے اور نہیں تو یہ عام آدمی انہی کتے بلے صحافیوں کا نشانہ بن جاتا تھا جنہیں ٹی وی پر تو کوئی پوچھتا نہیں تھا البتہ کسی لوکل اخبار کے کالمی صفحے کے کونے میں ان کا ارشاد چھپا ہوتا تھا۔

کل ایک معروف صحافی کو کراچی میں گولیاں لگیں، جیسے سب نے اظہارِ رائے دیا ہم نے بھی دینا چاہا، سچ پوچھیں تو اس دن پہلی بار ہمیں اس بات کا ادراک ہوا کہ ہم  ایک عام آدمی ہیں، یعنی مینگو مین،  تو ہوا کچھ یوں کہ ہم نے جا کر "جیو نیوز اردو” کے صفحے پر ایک عدد تبصرہ کر دیا۔ بھئی آزادی اظہار اور کیا؟ آج کیا دیکھتے ہیں کہ یہ عام آدمی تو وہاں پر بین شین ہو چکا ہے تو گویا آزادی اظہار کے لئے آپ لب ہلائیں تو اس سے پہلے پوچھ لیں کہ آیا ہم یہ بات لکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ ہمارا نقصان تو کوئی نہیں ہوا البتہ پتا لگ گیا کہ امن کی آشا، آزاد صحافت اور بے بانگ تجزیوں کے پیچھے ایک ایسا دیو بیٹھا ہے جو ہر اس شخص کی زبان روکنے کا پیدائشی حق اپنی امی جان کے پیٹ سے لیکر آیا ہے جو اصلوں اظہارنے میں آزادی سے کام لیتا ہے۔ یہ تو ذاتی تجربہ تھا اس سے پہلے کچھ دوسرے بلاگران کر زبان یا دوسرے الفاظ میں انگلیاں ہلانے پر جیو ٹی وی کی طرف سے لیگل نوٹس موصول ہو چکا ہے، ممکن ہے اس پوسٹ کے بعد مجھے بھی مل جائے۔ اس کے علاوہ کچھ فیس بُک پیج کے مالکان کو بھی اسی قسم کے دھمکی آمیز پیغامات اور لیگل نوٹس ملے ہیں جن کے بقول رائے دینی ہے تو پہلے ہمارے پینل کی طرف سے اجازت لو کہ آیا تم اس قابل ہو بھی سہی یا نہیں۔ایسے موقع پر جب بھی ٹی وی پر جیو پر  نظر پڑتی ہے تو یہی فقرہ منہ سے نکلتا ہے۔۔ کہ خوشی مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا۔۔۔

Comments