حمص کی فتح اور حمص پر عیسائیوں کی دوبارہ کوشش کا احوال

شام کی طرف لشکر کشی میں جب شام کے اضلاع میں تین بڑے اضلاع ایسے رہ گئے جن کا فتح ہونا شام کے فتح ہونے کے برابر تھا تو  لشکرِ اسلام نے ان تینوں اضلاع کا جائزہ لیا ان میں حمص وہ ضلع تھا زیادہ قریب اور جمیعت اور سامان میں کم تھا۔ یہ شہر اس لئے مشہور تھا کہ یہاں آفتاب کے نام پر ایک بڑا ہیکل موجود تھا جس کا پجاری ہونا بڑے فخر کی بات سمجھی جاتی تھی۔راستے میں ایک شہر بعلبک کے نام کا آتا تھا جسے معمولی سی لڑائی کے بعد فتح کر لیا گیا۔ رومی فوج نے حمص سے نکل کر مقابلہ کیا لیکن حضرت خالد کے آگے ان کی پیش نہ گئی اور  پہلے ہی حملے میں رومی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔حضرت خالد نے سبرہ بن مسروق کو تھوڑی سی فوج دے کر پیچھا کرنے کے لئے بھیجا اور وہ ہر جھڑپ میں کامیاب رہے۔

شرجیل حمیری اسلامی فوج کے ساتھ تھے جنہوں نے اکیلے سات سو سواروں کو مار گرایا اور خود فوج سے الگ ہو کر حمص کی طرف بڑھے۔ راستے میں رومیوں نے ان کو اکیلا دیکھا اور حملہ کیا لیکن ان کے ہاتھ سے گیارہ رومی مارے گئے اور باقی بھاگ کھڑے ہوئے اور جا کر ایک گرجے میں پناہ لی۔یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور شرجیل نے چاروں اطراف سے پتھر اور ڈھیلے کھا کر شہادت حاصل کی۔اس کے بعد حضرت خالد اور حضرت ابو عبیدہ نے بھی حمص کا رخ کیا اور پہرہ بٹھا دیا۔کڑاکے کی سردی تھی اور رومی یہ خیال کئے بیٹھے تھے کہ مسلمان اس سردی کا مقابلہ نہیں کر سکتے دوسرے ہرقل کی طرف سے مدد کا خط بھی ملا اور در حقیقت جزیرہ سے فوجیں چل بھی پڑیں جن کی خبر جب عراق کی مہم پر حضرت سعد بن ابی وقاص کو ہوئی تو انہوں نے کچھ فوج بھیج کر انکو وہیں روک لیا۔حمص والوں نے مایوس ہو کر صلح کی درخواست کی۔ ابو عبیدہ آگے بڑھے اور  حماۃ، شیرز اور مرۃ النعمان کی طرف بڑھے جہاں پر لوگوں نے جزیہ دے کر صلح کر لی۔

یہاں سے لشکر اسلام لاذقیہ کی طرف روانہ ہوا۔یہ ایک قدیم شہر تھا ۔ یہاں محاصرہ بٹھایا گیا اور اس شہر کو فتح کرنے کے لئے ابو عبیدہ نے ایک نئی تدبیر کی اور وہ یہ کہ شہر والوں کو خبر کئے بغیر کئی غار کھدوا لئے۔محاصرہ کچھ دن رہا پھر اسلامی لشکر وہاں سے روانہ ہو گیا۔شہر والوں نے سکھ کا سانس لیا لیکن راتوں رات اسلامی لشکر واپس آکر غاروں میں چھپ گیا۔ صبح ہوئی تو کاروبارِ زندگی شروع تھا اور شہر کے دروازے کھل چکے تھے۔مسلمانوں نے حملہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر فتح ہو گیا۔

اس کے بعد  لشکرِ اسلام نے  ہرقل کے پائے تخت کی طرف کوچ کرنے کا ارادہ کیا لیکن  دربارِ خلافت سے حکم ہوا کہ اس سال مزید آگے نہ بڑھا جائے اس لئے مزید لشکر کشی کو روک کر تمام فوجیں واپس بلا لی گئیں اور فتح کئے گئے شہروں میں بڑے بڑے افسروں کو نائب بنا کر بھیجا گیا تا کہ کسی قسم کی ابتری نہ ہونے پائے۔ابو عبیدہ نے حمص میں قیام کیا۔عمرو بن العاص  اردن کو روانہ ہوئے اور خالد نے ایک ہزار فوج کو ساتھ لیکر دمشق کا رخ کیا۔یہ واقعات 14 ہجری میں پیش آئے۔

17 ہجری میں ایک بار پھر سے  رومیوں کو جوش آیا اور انہوں نے قیصر کو جوش دلایا کہ پھر سے کوشش کرے اس بار پوری قوم اس کے ساتھ ہے۔ قیصر نے ایک بہت بڑی تعداد حمص کی طرف روانہ کی جبکہ قیصر کے پایہ تخت سے ہی تیس ہزار کی جمیعت شام کی طرف روانہ ہوئے۔ادھر ابو عبیدہ تھے انہوں نے آس پاس سے فوجیں بُلا کر حمص  کے باہر صفیں جمائیں اور ساتھ ہی حضرت عمر رضی اللہ کو تمام حالات لکھ بھیجے۔ یہاں حضرت عمر کی پہلے سے کی ہوئی تدبیر کام آئی وہ کچھ یوں تھی کہ حضرت عمر نے آٹھ بڑے شہروں میں چھاؤنیاں قائم کر رکھی تھیں کہ کسی بھی وقت ضرورت پڑ سکتی ہے جہاں چار ہزار  گھوڑے صرف اسی لئے ہر وقت تیار رہتے تھے کہ جب کبھی ضرورت پڑی فوری کمک روانہ کی جا سکے۔

قعقاع بن عمر جو کوفہ میں موجود تھے ان کو حکم دیا کہ چار ہزار  سوار لیکر حمص میں ابو عبیدہ سے جا ملیں۔دوسری جانب سہیل بن عدی کو حکم دیا کہ فوج لیکر جائیں اور جزیرہ پہنچ کر انکو حمص کی طرف لشکر کشی سے روکیں۔اسی طرح عبداللہ بن عتبان کو نصیبین کی طرف بھیجا جبکہ ولید بن عقبہ کو جزیرہ کے آس پاس موجود عرب قبائل کو دیکھنے کا حکم دیا۔یہی نہیں حضرت عمر خود مدینہ سے نکل کر دمشق پہنچے تاکہ حالات دیکھ سکیں۔ادھر یہ سب ہوا ادھر جزیرہ والوں کو خبر ملی کہ تم یہاں حمص کو بچانے آئے ہو ادھر دیکھو مسلمان جزیرہ کی خبر لینے پہنچ بھی گئے۔رومی حمص سے اٹھ کر جزیرہ کی طرف روانہ ہوئے۔

یہ حالات دیکھے تو وہ عرب قبائل جو عیسائیوں کی مدد کو آئے تھے پچھتانے لگے حضرت خالد کو خفیہ خط لکھا کہ تم کہو تو عین وقت پر ہم عیسائیوں سے الگ ہو جائیں لیکن حضرت خالد خود حضرت ابو عبیدہ کی کمان میں تھے اس لئے کوئی فیصلہ نہ کر سکے۔ ادھر ایک طرف فوج  حملے کے لئے بے قرار تھی تو دوسری طرف ابو عبیدہ کی تقریر نے جوش کو اور گرما دیا۔خود قلبِ لشکر سنبھالا حضرت خالد کو میمنہ پر معین کیا اور حضرت عباس کو میسرہ پر اور حمہ آور ہوئے۔ عین یہی وقت تھا جب عرب کے قبائل جو عیسائیوں کی مدد کو آئے تھے  پیچھے ہٹنا شروع ہوئے اور عیسائیوں  کی فوج کا بازو ٹوٹ گیا۔عیسائی بھاگے لیکن کہیں بھی پاؤں جما کر لڑ نہ سکے۔یہ وہ آخری معرکہ تھا جب عیسائیوں نے خود سے حملہ کرنے کی کوشش کی اس کے بعد رومی سلطنت مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہونا شروع ہوئی تو مصر جا کر ان کے قدم رُکے۔نقصان یہ بھی ہوا کہ 18 ہجری میں عمواس کی وبا پھیلی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پچیس ہزار مسلمانوں کو دائمی نیند سُلا دیا۔اس وبا ہی میں حضرت ابو عبیدہ نے بھی وفات پائی۔

(کوفہ سے چار ہزار سواروں کو لیکر چلنے واے قعقاع بن عمر اس معرکے کے وقت وہاں سے چند میل کے فاصلے پر تھے۔انہوں نے معرکے کا سنا تو سواروں کو وہیں چھوڑ کر فقط ایک سو سواروں کے ساتھ آکر ابو عبیدہ سے آملے تھے )

Comments