صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان۔ 6 ہجری

پس منظر (صلح حدیبیہ):

ذوقعد 6 ہجری میں آپ ﷺ صحابہ کے ساتھ عمرے کی غرض سے مدینہ سے نکلے ، چودہ سو  جانثار ساتھ تھے۔ کسی قسم کا کوئی اصلحہ ماسوائے تلواروں کے جو نیاموں میں بند تھیں اور عرب میں سفر کا ایک عام ہتھیار تھا ساتھ تھیں۔ مقامِ ذولحلیفہ پہنچ کر قربانی کی ابتدائی رسوم پوری کیں اور قربانی کے اونٹوں کے گلے میں لوہے کے نعل ڈال دئیے گئے۔ احتیاط کے طور پر  ایک شخص کو آگے بھیج دیا گیا جس نے آکر اطلاع دی کہ قریش مقابلے کی تیاری میں ہیں اور معلوم پڑا کہ خالد بن ولید پہلے ہی دو سو سواروں کے ساتھ غمیم تک پہنچ چکے تھے۔آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی تو کترا کر  ایک طرف سے نکلے، حضرت خالد کو گھوڑوں کی گرد نظر آئی تو جا کر قریش کو خبر دی  کہ لشکر اسلام غمیم تک آگیا۔بنو خزاعہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن در پردہ  مسلمانوں کے ساتھ تھے۔ اس قبیلہ کے رئیس کا نام بدیل بن ورقا تھا، آپ ﷺ کی آمد کا سنا تو بارگاہِ نبویﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کی قریش کی فوجوں کا سیلاب آپکو مکہ میں داخل  نہ ہونے دیگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قریش سے کہو کہ ایک مدت کے لئے ہم سے صلح کر لیں، ہم کو لڑنا مقصود نہیں صرف عمرے کے لئے آئے ہیں  اگر وہ اس  پر بھی راضی نہیں تو اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے میں یہاں تک لڑوں گا کہ میری گردن الگ ہو جائے اور اللہ کو جو فیصلہ کرنا ہے کر دے۔ بدیل نے جا کر آپ ﷺ کا پیغام قریش کو سنایا۔ قریش کی جانب سے عروۃ نے آکر آپ ﷺ سے بات چیت شروع کی۔ جب لڑائی کا ذکر آیا تو کہنے لگا کہ  اگر لڑائی کا رخ بدلا تو  تو تمہارے ساتھ جو بھیڑ ہے گرد کی طرح چھٹ جائے گی۔ یہ سنا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ کو غصہ آگای اور گالی دیکر کہا کہ  کیا ہم محمد ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ عروۃ نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جب معلوم پڑا تو کہنے لگا کہ اس سخت کلامی کا جواب میں ضرور دیتا لیکن ان کا ایک احسان مجھ پر ہے جس کا میں نے ابھی تک بدلہ ادا نہیں کیا۔عروۃ بے تکلفی سے بات کرتا تھا، بات کرتے ہوئے عرب کے دستور کے مطابق ہاتھ کو بار بار آپ ﷺ کی ریش مبارک تک لے جاتا تھا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ آنحضرت ﷺ کے پیچھے موجود تھے، ان کو یہ گوارہ نہ ہوا تو عروۃ کو کہا اپنا ہاتھ ہٹا لے ورنہ یہ ہاتھ بڑھ کر  واپس نہ جا سکے گا۔

بیعتِ رضوان اور صلح حدیبیہ:

عروۃ نے واپس جر کار قریش کو تمام حالات بتائے اور صحابہ کی عقیدت کا حال سنایا جس نے اس کے دل پر کافی اثر کیا تھا۔لیکن معاملہ اب بھی نا تمام تھا اس لئے آپ ﷺ نے حضرت خراش بن امیہ کو قریش کے پاس بھیجا لیکن قریش نے ان کے سواری کے اونٹ کو مار ڈالا اور خود وہ مشکل سے جان بچا کر واپپس آنے میں کامیاب ہوئے۔قریش نے حملہ کیا لیکن ان کے تمام افراد گرفتار کر لئے گئے۔آپ ﷺ نے تمام افراد کو آزاد کر دیا۔ بات چیت کے لئے حضرت عمر کا انتخاب ہوا لیکن انہوں نے معذرت کر لی کہ مکہ میں ان کا کوئی خیر خواہ موجود نہیں۔ ان کی جگہ حضرت عثمان کو بھیجا گیا جو  ابان بن سعید کی حمایت میں مکہ گئے اور  آپ ﷺ کا پیغام سنایا۔ قریش نے ان کو نظر بند کر دیا اور عام طور پر یہ خبر مشہور ہو گئی کہ ان کو شہید کر دیا گیا ہے۔یہ خبر آپ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ عثمان کے خون کا قصاص لینا فرض ہے۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے ببول کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر جانثاری کی بعیت لی۔ قرآن میں ہے:

لَقَد رَضِيَ اللَّـهُ عَنِ المُؤمِنينَ إِذ يُبايِعونَكَ تَحتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ ما في قُلوبِهِم فَأَنزَلَ السَّكينَةَ عَلَيهِم وَأَثابَهُم فَتحًا قَريبًا  (فتح)

یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وه درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔

تمام صحابہ کرام جن میں مر د بھی تھے اور خواتین بھی انہوں نے درخت کے نیچے بیٹھ کر جوش اور ولولہ انگیز انداز میں آپ ﷺ کے ہاتھ پر جانثاری کی بیعت کی۔ قریش کی جانب سے  سہیل بن عمرو سفیر بن کر آئے۔ قریش کی طرف سے واضح کر دیا گیا تھا کہ صلح اسی شرط پر ہوگی کہ محمد ﷺ اس سال واپس چلے جائیں۔آخر کار کافی دیر کی گفتگو کے بعد صلح کی شرائط طے پا گئیں۔ آپ ﷺ نے حضرت علی کو بلا کر   حکم دیا کہ معاہدے کو قلم بند کریں۔ حضرت علی رضی اللہ نے معاہدے کے شروع میں بسم اللہ الرحمان الرحیم لکھا ، عرب چونکہ بسم اللہ کی جگہ بسمک اللھم لکھا کرتے تھے اس لئے سپہیل نے کہا کہ وہی قدیم الفاظ لکھے جائیں۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ایسا ہی کیا جائے۔ اس کے بعد کے الفاظ  کچھ اس طرح تھے "یہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ نے تسلیم کیا۔”۔ یہاں بھی سہیل  نے کہا کہ آپکو پیغمبر مان لیں تو ہمارا اور آپکا پھر جھگڑا کیا ہے؟ آپ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام لکھیں۔ آپ ﷺ نے کہا کہ گو تم تکذیب کرتے ہو لیکن خدا کی قسم میں اللہ کا پیغمبر ہوں، پھر حضرت علی کو حکم دیا کہ وہ صرف ان کا نام لکھ دیں۔حضرت علی سے بڑھ کر کوئی فرمانبردار نہ تو ہو سکتا ہے نہ تھا لیکن محبت میں انہوں نے کہا کہ میں ہرگز ایسا نہ کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھا مجھ کو بتاؤ میرا نام کہاں ہے، حضرت علی نے انگلی سے بتایا کہ یہاں ہے۔ آپ ﷺ نے وہاں سے رسول اللہ کے الفاظ مٹا دئیے۔

صلح حدیبیہ کی شرائط یہ تھیں:

مسلمان اس سال واپس چلے جائیں۔

اگلے سال آئیں اور صرف تین دن قیام کر کے چلے جائیں۔

ہتھیار لگا کر نہ آئیں ، صرف تلواریں ساتھ لائیں اور وہ بھی نیام میں اور نیام علبان میں رہے۔

مکہ میں جو مسلمان مقیم ہیں ان میں سے کسی کو ساتھ نہ لیکر جائیں، مسلمانوں میں سے کوئی مکہ میں رکنا چاہے تو اس کو نہ روکا جائے۔

مسلمانوں میں سے کوئی شخص اگر مدینہ جائے گا تو واپس کر دیا جائے گا، مدینہ سے کوئی مکہ آئے گا تو واپس نہیں کیا جائے گا۔

قبائل عرب کو اختیار ہوگا کہ معاہدے میں جس کے ساتھ چاہیں شریک ہو جائیں۔

یہ بہت خطرناک وقت تھا۔ ایک جانب تو معاہدے کی شرائط لکھی جا چکی تھیں  اور دوسری جانب حضرت ابو جندل جو مسلمان ہو چکے تھے اور جن کو قریش نے قید کر رکھا تھا کسی طرح جان چھڑا کر بھاگ آئے۔ سہیل نے کہا کہ معایدے کے امتحان کا پہلا وقت ہے۔ اس کو واپس کر دو۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ ابھی شرائط  لکھی نہیں گئیں۔ سہیل نے کہا کہ نہیں یہ واپس جائے گا۔ آپ ﷺ نے اصرار کیا کہ اس کو چھوڑ دو، سہیل نے کہا کہ بس پھر ہم کو صلح بھی منظور نہیں۔ مجبوراً آپ ﷺ نے ان کو کفار کے ساتھ جانے دیا۔ابو جندل کو کفار نے اس حالت میں رکھا تھا کہ تشدد کی وجہ سے ان کے جسم پر جا بجا نشان بنے ہوئے تھے۔ابو جندل نے مسلمانوں کی طرف دیکھا اور کہا "برادرانِ اسلام  کیا مجھ کو پھر اسی حالت میں دیکھنا چاہتے ہو؟،میں اسلام لا چکا ہوں کیا پھر مجھ کو کافروں کے ہاتھ میں دے دو گے؟”۔ مسلمان تڑپ اٹھے، حضرت عمر تو جذبات سے مغلومٓب ہو کر آپ ﷺ کے پاس گئے اور کہا کیا آپ ﷺ پیغمبر برحق نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا بے شک ہوں، حضرت عمر نے کہا کیا ہم حق پر نہیں؟ آپﷺ نے فرمایا بے شک ہیں۔ حضرت عمر نے کہا پھر ہم دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں اور اس کے حکم کے خلاف نہیں کر سکتا، خدا میری مدد کرے گا۔ حضرت عمر نے کہا کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہم کعبہ کا طواف کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا لیکن یہ تو نہیں کہا تھا کہ اسی سال کریں گے۔حضرت عمر لوٹ آئے اور واپس آکر وہی باتیں حضرت ابو بکر سے کیں، حضرت ابو بکر نے فرمایا وہ پیغمبر خدا ہیں جو کچھ کرتے ہیں اللہ کے حکم سے کرتے ہیں۔اپنی اس گفتگو کا حضرت عمر کو ساری زندگی اتنا دکھ رہا کہ نوافل پڑھے،روزے رکھے، غلام آزاد کئے اور خیرات کی۔ابو جندل کو دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا "ابو جندل! صبر اور ضبط سے کام لو، اللہ تمہارے لئے اور مظلوموں کے لئے کوئی راہ نکالے گا۔ صلح اب ہو چکی، ہم ان لوگوں سے بد عہدی نہیں کر سکتے”۔ یہ وہ وقت تھا جب حضرت ابو جندل پا بہ زنجیر واپس لے جائے جا رہے تھے۔

آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ  یہیں پر قربانی کی جائے، مسلمانوں کی دل برداشتگی کا یہ عالم تھا کہ ایک شخص بھی اپنی جگہ سے نہ اٹھا، حتیٰ کے آپ ﷺ کے تین بار کہنے پر بھی کوئی باہر نہیں آیا۔ آپ ﷺ اٹھ کر گھر تشریف لے گئے اور حضرت امِ سلمہ سے شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کسی سے کچھ نہ کہیں، جا کر احرام اتاریں اور خود قربانی کریں چنانچہ آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا اور پھر جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ یہی فیصلہ آخر ہے تو انہوں نے بھی احرام اتارے اور قربانیاں کیں۔حدیبیہ میں آپ ﷺ کا قیام تین روز تک رہا۔ یہیں سورۃ فتح کی پہلی آیت اتری:

إِنّا فَتَحنا لَكَ فَتحًا مُبينًا

بیشک (اے نبی) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے

بارگاہِ خداوندی سے پروانہ فتح آچکا تھا۔ وہ جو مسلمان ان حالات سے دل برداشتہ تھے ان کے لئے حکمِ باری تعالیٰ ایک نئی خوشی لیکر آیا تھا۔آپ ﷺ نے خاص طور ہر حضرت عمر کو بلوا کر فرمایا کہ یہ آیت اتری ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ کیا یہ فتح ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں یہ فتح ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ تب ہوا جب  مکہ اور مدینہ میں تجارتی اور عام آمدو رفت کا دروازہ کھلا۔ مکہ سے لوگ آتے، مہینوں تک مدینہ میں رہتے۔ باتوں باتوں میں اسلام کا ذکر آتا، اسلامی مسائل زیرِ بحث آتے اور پھر مدینہ سے واپس جانے والا ممکن ہی نہیں تھا کہ اپنا دل مدینہ میں چھوڑ کر نہ جائے۔حضرت خالد بن ولید جن کو بعد میں سیف اللہ کا لقب ملا اور حضرت عمرو بن عاص جن کے ہاتھوں دورِ فاروقی میں مصر فتح ہوا انہی دنوں میں تو مسلمان ہوئے تھے۔ وہ چہرے جو مدینہ آتے تھے پھر تبدیل ہو کر مکہ واپس جاتے تھے۔یہاں یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ صلح کے دنوں میں جس قدر کثرت سے لوگ مسلمان ہوئے اور ایمان لائے اس سے پہلے کبھی ایسا نہ ہوا تھا۔

درمیان میں واقعہ یہ ہوا کہ حضرت عتبہ مکہ سے بھاگ کر مدینہ آگئے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ واپس جاؤ، انہوں نے کہا کہ آپ مجھے واپس بھیجتے ہیں وہ مجھے کفر پر مجبور کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اس کی کوئی تدبیر نکالے گا۔غرض حضرت عتبہ دو کافروں کی حراست میں واپس گئے لیکن مقام ذولحلیفہ پہنچ کر ایک شخص کو قتل کر دیا۔ جو شخص بچ گیا اس نے مدینہ آکر شکایت کی ساتھ ہی حضرت عتبہ بھی پہنچ گئے ، کہنے لگے یا رسول اللہ آپ نے معاہدے کے موافق مجھے واپس کر دیا تھا اب آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ یہ کہہ کر وہاں سے گئے اور سمندر کے پاس ایک مقام میں رہنا شروع کر دیا، مکہ میں ستم رسیدہ لوگوں کو تو جیسے ایک نیا ٹھکانہ مل گیا۔ دیکھتے دیکھتے وہاں ایک جمیعت ہو گئی اور یہ لوگ مکہ سے شام جانے والے قافلوں کو لوٹتے اور یہی ان کا زادِ راہ بھی تھا۔قریش نے جب یہ دیکھا تو آپ ﷺ کو لکھ بھیجا کہ اپنے معاہدے کی شرائط سے ہم باز آتے ہیں، اب جس کا جب دل کرے مدینہ آکر رہے ہمیں کسی سے کوئی لینا دینا  نہیں۔آپ ﷺ نے ان تمام مسلمانوں کو جو وطن سے دور ہو گئے تھے لکھ بھیجا کہ مدینہ واپس آجاؤ چنانچہ حضرت ابو جندل اس کے بعد مدینہ آکر آباد ہو گئے۔پھر دو سال کا عرصہ گزر گیا۔ رمضان 8 ہجری میں مسلمان ایک شان کے ساتھ مکہ کے دروازے پر ایک فاتح کی حیثیت سے دستک دے رہے تھے۔

واللہ عالم بالثواب

Comments