سلاطین کو دعوتِ اسلام

یہ واقعات 6 ہجری کے آخر یا 7 ہجری کے شروع میں پیش آئے۔

صلح حدیبیہ کے بعد حالات کسی قدر پر سکون ہوئے تھے۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے تو یہ ممکن نہیں تھا کہ یہ رحمت صرف  عرب تک محدود رہتی۔ صحابہ کرام کو جمع کر کے فیصلہ کیا گیا کہ اسلام کا پیغام اب تمام عالم میں پہنچایا جائے گا۔اس مقصد کے لئے جن شخصیات کو چنا گیا، جس اس مبارک کام کے لئے منتخب ہوئے ان کے نام یہ ہیں:

قیصر روم کی طرف پیغام لیکر جانے والے حضرت وحیۃ کلبی رضی اللہ، حضرت عبد اللہ بن حذافی سہمی  خسرو پرویز کی طرف گئے، حضرت حاطب بن ابی بلتعہ عزیزِ مصر کی طرف روانہ ہوئے، نجاشی کے پاس حضرت عمرو  بن امیہ گئے، حضرت سلیط بن عمر کو یمامہ کی طرف بھیجا گیا اور رئیسِ شام حارث غسانی کی طرف  حضرت شجاع بن وہب  الاسدی کو جانے کا حکم ہوا۔ پہلا خط جو آپ ﷺ کا پہنچا وہ قیصر کو ملا، یہ خط حارث غسانی کو حضرت وحیۃ کلبی نے دیا جس کو اس نے قیصر تک پہنچا دیا۔ قیصر نے خط پڑھا اور دریافت کیا کہ عرب کا کوئی شخص یہاں موجود ہو  تو لاؤ۔ یہ بھی اتفاق تھا کہ تجارت کی غرغ سے ابو سفیاں  غزہ میں مقیم تھے۔ قیصر کے کچھ لوگ ان کو وہاں سے بلا کر لے آئے اور پھر قیصر اور ابو سفیان میں  مکالمہ ہوا جو کچھ اس طرح تھا:

قیصر: جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اس کا خاندان کیسا ہے؟

ابو سفیان: شریف ہے

قیصر: کیا اس کے خاندان میں کسی اور نے نبوت کا دعویٰ کیا؟

ابو سفیان: نہیں

قیصر: اس خاندان میں کوئی بادشاہ بھی گزرا ہے؟

ابو سفیان: نہیں

قیصر: جن لوگوں نے یہ مذہب قبول کیا وہ کمزور لوگ ہیں یا با اثر؟

ابو سفیان: کمزور لوگ ہیں

قیصر: اس کے پیروکار بڑھتے ہیں یا گھٹتے جاتے ہیں؟

ابو سفیان: بڑھتے جاتے ہیں

قیصر: کبھی تم لوگوں کو اس کی نسبت جھوٹ کا دعویٰ ہوا؟

ابو سفیان: نہیں

قیصر: وہ کبھی عہد و اقرار کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے؟

ابو سفیان: ابھی تک تو نہیں لیکن ابھی جو  نیا معاہدہ ہوا ہے دیکھیں وہ اس پر قائم رہتا ہے یا نہیں

قیصر: تم لوگوں نے کبھی اس سے جنگ بھی کی؟

ابو سفیان: ہاں

قیصر: نتیجہ کیا رہا؟

ابو سفیان: کبھی ہم غالب آئے کبھی وہ

قیصر: وہ کیا سکھاتا ہے؟

ابو سفیان: کہتا ہے ایک خدا کی عبادت کرو، کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ، نماز پڑھو، پاکدامنی اختیار کرو، صلہ رحمی کرو، رحم کرو۔

یہ مکالمہ یہاں ختم ہو گیا، قیصر مترجم کی طرف متوجہ ہوا اور کہا تم کہتے ہو اس کے خاندان سے کسی اور نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا، اگر ایسا ہوا تو میں سمجھتا کہ اس پر خاندان کا اثر ہے۔ تم نے کہا کہ وہ شریف ہے اس کا خاندان شریف ہے، پیغمبر اکثر شریف گھرانوں سے ہی ہوتے ہیں۔تم تسلیم کرتے ہو کہ اس کے خاندان میں کوئی بادشاہ نہ تھا اگر ایسا ہوتا تو میں سمجھتا کہ اس کو بادشاہت کی ہوس ہے۔تم مانتے ہو کہ اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، جو شخص انسانوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ کیسے خدا پر جھوٹ باندھ سکتا ہے؟ تم کہتے ہو کہ اس کے پیروکار غریب ہیں، پیغمبروں کے پیروکار غریب ہی ہوتے ہیں۔ تم مانتے ہو کہ اس کا مذہب بڑھتا جاتا ہے، سچے پیغمبروں کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ ان کا مذہب ترقی کرتا ہے۔تم کہتے ہو اس نے کبھی فریب نہیں کیا، سچے پیغمبر کبھی فریب نہیں کرتے۔ تم کہتے ہو وہ نماز و تقویٰ کا حکم دیتا ہے اگر ایسا ہے تو میں جہاں موجود ہوں وہاں تک اس کا قبضہ ہو جائے گا۔ مجھ کو معلوم تھا کہ ایک پیغمبر آنے والا ہے لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ عرب سے ہوگا۔ میں اگر وہاں جا سکتا تو خود اس کے پاؤں دھوتا۔ پھر قیصر نے حکم دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا خط پڑھا جائے جس کے یہ الفاظ تھے:

بسم اللہ الرحمان الرحیم! محمد ﷺ کی طرف سے جو اللہ کا بندہ اور پیغمبر ہے، یہ خط ہرقل کے نام ہے جو روم  کا رئیس اعظم ہے۔ اس کو سلامتی ہو جو ہدایت کا پیروکار ہے، اس کے بعد تجھ کو اسلام کی دعوت کی طرف بلاتا ہوں،اسلام لا تو سلامت رہے گا اللہ تجھ کو دگنا اجر دے گا اور اگر تُو نے نہ مانا تو اہل ملک کا گناہ تیرے سر ہوگا۔ اے اہل کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے اور یہ کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو (اللہ کے سوا) خدا نہ بنائے اور تم نہیں مانتے تو گواہ رہو کہ ہم مانتے ہیں۔

خسرو پرویز کو خط ملا ، وہاں کا رواج تھا کہ خط میں بادشاہ کا نام پہلے لکھا جاتا تھا لیکن عرب کے دستور کے مطابق پہلے اللہ کا نام اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کا نام تھا۔ پرویز شان و شوکت والا بادشاہ تھا خط پڑھا تو کہتے لگا کہ میرا غلام ہو کر مجھ کو یوں لکھتا ہے اور یہ کہہ کر خط پھاڑ ڈالا۔ اس کا نتیجہ یہ کہ کچھ روز بعد ہی اس کی سلطنت کے بھی ٹکڑے ہو گئے۔نجاشی کو کہ حبشہ کا بادشاہ تھا کو آپ ﷺ کا خط ملا اس نے سر آنکھوں پر رکھا اور جواب بھیجا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ حضرت جعفر طیار رضی اللہ وہاں موجود تھے اور ان ہی کے ہاتھ پر نجاشی نے اسلام کی بیعت کی۔اس کے ساتھ ہی اپنے بیٹے کو ساٹھ افراد کے ساتھ ایک سفارت آپ ﷺ کی طرف بھیجی لیکن راستے میں جہاز ڈوب گیا اور تمام افراد ہلاک ہو گئے۔ عزیز مصر نے بھی بہت عزت و احترام سے خط پڑھا اور جواب میں دو لڑکیاں،  کپڑا اور سواری کا ایک خچر بھیجا۔ عزیزِ مصر اسلام نہیں لایا تھا۔ان دو لڑکیوں میں ایک حضرت ماریہ تھیں جو آپ ﷺ کےی ازواج میں شامل ہوئی ایک  حضرت حسان رضی اللہ کی ملک میں آئیں۔ سواری کا خچر وہی مشہور دلدل ہے  جس کا ذکر اکثر احادیث میں آیا ہے۔یمامہ کے رئیس نے جواب دیا کہ جو باتیں آپ ﷺ نے لکھیں وہ بہت اچھی ہیں لیکن اگر حکومت میں میرا کچھ حصہ ہو تو میں اقتدا کے لئے تیار ہوں۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ زمین کا ایک ٹکڑہ بھی ہوا تو نہ ملے گا۔حارث غسانی خط پڑھ کر برہم ہوا اور فوج کا تیاری کا حکم دیا  جس کا نتیجہ  بعد میں تبوک  اور موتہ کی لڑائیوں کی صورت میں نکلا۔

واللہ عالم بالثواب۔ (تاریخ طبری، سیرت النبی ﷺ)

Comments