اصلاحاتِ عمر فاروق رضی اللہ

حضرت عمر رضی اللہ کی جب بات آتی ہے تو ایک عام  بلاگر کی حیثیت سے صرف یہی بات ذہن میں آتی کہ کتنے ہی بلاگ کیوں نہ کالے کر لوں اس شخص کی شخصیت پر وہ روشنی بھی نہیں ڈال سکتا جو ان کو دیکھ سکے۔ان کے کارنامے ستاروں پر کمندیں ڈالتے ہیں اور ہم الفاظ ہی ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں جو مناسب طور پر ان کارناموں کا احاطہ کر سکیں لیکن ہم ناکام رہتے ہیں۔عرب کے ریگزاروں میں خطاب کے بیٹے کو یثرب اور مکہ میں رہنے والوں نے اونٹ چراتے دیکھا تھا اس وقت خود حضرت عمر بھی نہیں جانتے تھے کہ یہ عام سا چرواہا ایک دن اسلام کا وہ مضبوط بازو بنے گا جو آگے چل کر عالمِ اسلام کو وہ دائمی قوت عطا کرے گا جس کے آگے دنیا کے سپر پاورز کو بھی جھکنا ہی پڑے گا، کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ (نعوذ باللہ) گھر سے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا ارادہ کر کے چلنے والا شخص اسی دن اسلام کی دولت سے مالامال ہوگا اور کسی کو نہیں علم تھا کہ جس شخص نے حضورِ اقدس ﷺ کے قتل کے لئے والنٹیئر کیا ہے وہی اسلام کے عام ہونے کی وجہ بھی بنے گا، وہ کفار جنہوں نے اپنے ہاتھ سے حضرت عمر کو اسلام کے خاتمے کے لئے وداع کیا تھا وہ بھی نہیں جانتے تھے کہ جب حضرت عمر واپس آئیں گے تو اکیلے نہیں ہونگے بلکہ مسلمانوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوگی اور جماعت بھی وہ جو کفار کے مظالم سے چھپ کر دارِ ارقم میں مقیم تھی اور وہ ڈر اب ایک جوش میں بدل کر مکہ کی گلیوں میں با آوازِ بلند کلمہ شہادت  کا ورد کرتا ہوا گزرے گا۔

بغیر چھنے ہوئے آٹے کی روٹی ان کی مرغوب غذا تھی، اور عالم اسلام کا یہ شہنشاہ گھر سے نکل کر عوام الناس سے اس لئے معذرت کرتا ہوا دیکھا گیا ہے کہ وہ دیر سے آیا تھا، دیر سے کیوں آیا تھا؟ اس لئے کہ ان کے پاس ایک ہی کپڑوں کا جوڑا تھا جسے دھو کر ڈالا ہوا تھا اور خشک ہونے میں وقت لگ گیا۔قادسیہ کی جند میں مدائن فتح ہوا تھا اس وقت تک حضرت عمر کے لئے شہنشاہ، بادشاہ یا صدر جیسا کوئی لقب یا خطاب موجود نہیں تھا۔ بعد میں امیر المومنین کا خطاب پسند فرمایا جو خلافت کے قائم رہنے تک ہر خلیفہ نے استعمال کیا۔ان کے رعب سے بڑے بڑے اکابر صحابہ ڈرتے تھے۔ سعد بن ابی وقاص  اور عمرو بن العاص فاتحین میں سے ہیں ان کو جب دربارِ خلافت سے پیغام موصول ہوتا تھا تو ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہو گئی ہو۔ آپ حضرت عمر کا دورِ خلافت اٹھا کر دیکھ لیں اس کے بعد حضرت عثمان اور حضرت علی کے دورِ خلافت کو دیکھیں، اسلام وہی تھا، مسلمان وہی تھے لیکن حالات وہ نہیں رہے تھے، مسلمانوں میں آپس میں ہی انتشار پھیلنا شروع ہو گیا تھا، فتوحات کا سیلاب رک گیا تھا ۔ اس کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ وہ سب کو سنبھالنے والا ہاتھ جو حضرت عمر کا تھا کسی اور کا کبھی تھا ہی نہیں۔

حضرت عمر کی تمام عمر ایک مثال ہے، دس برس کا وہ عرصہ جس میں انہوں نے خلافت کے فرائض انجام دئیے وہ خاص طور پر عالمِ اسلام کا وہ سنہری دور ہے جسے دوبارہ دیکھنے کے لئے یہ عالم چودہ صدیوں سے لیل و نہار کی کروٹیں لے رہا ہے لیکن نہ تو وہ وقت آنا ہے نہ آئے گا۔ دس برس کا وہ عرصہ مختلف حالات کی صورت میں یہاں موجود ہے آپ پڑھ سکتے ہیں۔ اس حصے میں ہم ان اصلاحات کا ذکر کریں گے جو دس سالہ دورِ خلافت میں حضرت عمر رضی اللہ نے ایجاد کیں یا از سرِ نو جن کو ترتیب دیکر لاگو بھی کیا۔

بیت المال حضرت عمر ہی نے قائم کیا اور حکوتی خزانے کا رواج یہیں سے آگے چلا تھا، امیر المونین کا لقب بھی حضرت عمر ہی کے دورِ خلافت میں استعمال ہوا اور آگے گیا۔ تاریخ، سنہ اور ہجری وغیرہ یہ حضرت عمر ہی نے قائم کیں اور آج تک جاری بھی ہیں۔عدالتوں کا نظام اور قاضیوں کا قیام، فوجی دفاتر اور چھاؤنیوں کا قیام جن کو آج ہم کینٹ کہتے ہیں، پیمائش کا جاری کرنا، جو لوگ والنٹیئر کرتے تھے ان کی تنخواہوں کا قیام،شہروں کا آباد کرنا جن میں کوفہ، بصرہ، موصل نام سر فہرست ہیں، نہری نظام کا قیام،مرد شماری کا نظام بھی آپ رضی اللہ نے قائم کیا،مفتوحہ ممالک کو عالمِ میں اسلام میں شامل کرنے کے بعد ان کو صوبوں میں تقسیم کیا (آج کا ماڈرن سٹیٹ اور صوبوں کا نظام اسی کی جدید شکل ہے)،دریا کی پیداوار پر محصول مقرر کیا،سامانِ حرب تیار کرنے والے تاجروں کو تجارت کی اجازت دی گئی جس سے نئے نئے سامانِ حرب سے عالمِ اسلام کو واقفیت ہوئی،جیل کا قیام آپکے ہاتھوں ہی ہوا،پولیس کا محکمہ جو اس وقت ہر ملک میں موجود ہے حضرت عمر ہی نے شروع کیا تھا،پرچہ نویس مقرر ہوئے جو کہ حضرت عمر نے ہی قائم کئے،سرائے یا آجکل کی جدید شکل میں موٹل یا ہوٹل یہ مکہ سے مدینہ تک کے درمیان  قائم کئے حضرت عمر ہی کی ایجاد ہے،یتیموں کی کفالت اور راہ پڑے بچوں کے لئے روزینوں کا قیام آپ کے ہاتھوں ہوا،اہلِ عرب کے غلام بنائے جانے پر (بے شک کافر ہی ہوں) پابندی عائد کر دی گئی،وہ اقلیتیں جن کے حالات خراب تھے جن میں یہودی اور عیسائی سرِ فہرست ہیں ان کے روزینے مقرر کئے،مختلف شہروں میں مہمان خانوں کا قیام،مکاتب و مدارس کا قیام،معلموں کے مشاہرے آپ نے ہی مقرر کئے،قرآن کریم کو یکجا کرنے پر حضرت ابو بکر کو آپ نے ہی راضی کیا تھا اور بعد میں صحت اعراب اور قرآن کی تعلیم کا کام آپنے پوری دل جمعی سے انجام بھی دیا،آج فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر المن النوم کا اضافہ حضرت عمر ہی نے کیا تھا،نمازِ تراویح کو باجماعت کرنے کا طریقہ آپ رضی اللہ نے قائم کیا،شرام کی روک  تھام کے لئے اسی کوڑوں کی حد قائم کی، تین طلاقیں جو ایک ساتھ دی جاتی ہیں ان کو طلاقِ بائن قرار دیا، تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰۃ مقرر کی،وقف کا طریقہ ایجاد کیا، نمازِ جنازہ میں  چارتکبیروں  پر لوگوں کا اجماع کروایا، مساجد میں وعظ کا طریقہ بھی حضرت عمر نے ایجاد کیا،مساجد کے امام اور مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں، رات کے وقت مساجد میں روشنی کا انتظام کروایا،غزلوں میں عورتوں کے نام پر پابندی عائد کی۔

یہ تمام صرف بنیادی اصلاحات ہیں اس کے علاوہ متعدد واقعات ایسے ہیں جو حضرت عمر کی سیاسی اور علمی بصیرت کی گواہی دیتے ہیں ان میں بیت المال کا مسجد کے ساتھ ملایا جانا تا کہ وہاں چوری نہ ہو سکے، راتوں کو اٹھ کر عوام الناس کی خبر گیری کرنا یہ چھوٹی باتیں ہر گز نہیں ہیں۔ایک شخص نے اپنے دس سالہ دور میں سینکڑوں اصلاحات نافظ کیں، کئی ممالک فتح کئے یہ سب کام مدینہ میں بیٹھ کر ہوا، قادسیہ کی جنگ میں صف بندی حضرت عمر کے حکم سے ہوئی تھی یہاں تک کہ مدائن کی فتح سے قبل قادسیہ کے میدان کو جنگ کے لئے چننے کا کام بھی حضرت عمر نے مدینہ میں بیٹھ کر کیا تھا۔ یہ شہنشاہِ اسلام  جتنا عرصہ اس دنیا میں رہا، قبولِ اسلام سے لیکر شہادت تک  ایک ایک لمحہ دین اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کے لئے وقف رہا۔ وفات سے قبل اپنے فرزند حضرت عبد اللہ بن عمر کو حضرت عائشہ کے پاس بھیجا کہ جاؤ  میری طرف سے اجازت لیکر آؤ کہ عمر اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونا چاہتا ہے، وہ گئے تو حضرت عائشہ رو رہی تھیں، انہوں نے سن کر کہا کہ میں وہ جگہ اپنے لئے رکھنا چاہتی تھی لیکن میں عمر کو خود پر فوقیت دیتی ہوں۔ شہادت کے بعد حضرت عمر کی نمازِ جنازہ کے بعد ان کو لیکر گئے تو ان کے حکم کے موافق پہلے  پوچھا گیا کہ حضرت عمر اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ اسی موقع پر حضرت علی نے فرمایا تھا کہ میں نے رسول اللہ کو اکثر کہتے ہوئے سنا کہ میں ﷺ، عمر اور ابو بکر گئے، میں ﷺ ، عمر اور ابو بکر آئے۔ آپ تین حضرات دنیا میں بھی ایک ساتھ رہے اور اب بھی ایک ساتھ ہیں۔سلاماً یا عمر الفاروق۔

واللہ عالم بالثواب

فمن احبھم فبی حبی احبھم ومن ابغضھم فبی بغضی ابغضھم

Comments