عہدِ فاروقی رضی اللہ عنہ کے دوران عرب میں قحط پڑا

یہ 18 ہجری کے دوران پیش آیا، عرب میں قحط پڑ گیا تھا یہ بہت بری حالت تھی، حضرت عمر کیا اس سے قبل کے دور میں بھی ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ یہاں حضرت عمر کا امتحان تھا کہ وہ کس طرح سے اس معاملے کو دیکھتے ہیں۔ اول اول بیت المال میں موجود تمام غلہ استعمال کیا وہ استعمال ہو گیا تو تمام صوبوں میں لکھ بھیجا کہ غلہ عرب کی طرف روانہ کیا جائے۔ حضرت ابو عبیدہ نے چار ہزار اونٹوں پر غلہ لاد کر بھیجا۔ دوسری طرف حضرت عمرو بن العاص نے بیس جہاز روانہ کئے جن میں ایک ایک میں تین تین ہزار اردب غلہ لدا ہوا تھا۔

حضرت عمر خود بندرگاہ تک گئے اور غلہ وصول کیا، وہاں دو بڑے بڑے مکانات تعمیر کروائے اورحضرت زید بن ثابت کو قحط زدوں کا ایک رجسٹر تیار کرنے کا حکم دیا جس میں ہر قحط زدہ انسان کے لئے روز کا غلہ مقرر کیا۔ اس دستاویز پر حضرت عمر رضی اللہ کی مہر ثبت تھی۔صرف یہی نہیں حضرت عمر کے حکم سے ہر روز 120 اونٹ ذبح کئے جاتے تھے اور خود اپنے سامنے کھانہ بنواکر قحط زدہ لوگوں کو کھلایا کرتے تھے۔

روایات کے مطابق قحط کے دنوں میں گھی، گوشت یا  کسی بھی قسم کا لذیز کھانہ حضرت عمر نے چھوڑ دیا تھا۔ ہر وقت اسی سوچ میں گم رہتے کہ اس قحط کا سدِ باب کیسے ہو۔ روتے تھے اور دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! محمد ﷺ کی امت کو میری شامتِ اعمال کی وجہ سے تباہ نہ کرنا۔ ان کے غلام اسلم کا بیان ہے کہ قحط کے دنوں میں حضرت عمر کی جو حالت تھی اس سے لگتا تھا کہ قحط ختم نہ ہوا تو وہ اسی غم میں تباہ ہو جائیں گے۔

رضی اللہ عنہ۔ واللہ اعلم بالثواب

Comments