حضرت عمر کی سادگی اور سادہ رہن سہن

اسلام کی کمان حضرت عمر رضی اللہ کے ہاتھ میں آئی تو اسلام پھیلنا شروع ہو گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلہ اللی علیہ وسلم نے جس شخص کے لئے دعا کی اس میں لازماً کوئی بات ضرور تھی کہ جب اسلام لایا تو اسلام طاقتور ہو گیا اور جب خلیفہ بنایا گیا تو اسلام ایسا پھیلا کہ اللہ کے پسند کردہ دین کا سورج نصف النہار پر چمک رہا تھا اور یہ وقت عہدِ فاروقی ہی تھا۔ ان تمام تر باتوں کے باوجود اس سب کے باوجود کہ حضرت عمر اکابرِ صحابہ جن میں حضرت خالد سے لیکر سعد بن ابی وقاص، ابو موسیٰ اشعری اور عمروبن العاص تک شامل ہیں کو احکام صادر کیا کرتے تھے، دوست تو دوست دشمن بھی ان کے نام سے اس لئے کانپتے تھے کہ ان سے کوئی غلطی ہو گئی تو عمر کا سامنا کیسے کریں گے؟ اور ان کی زندگی کیسی تھی؟

بارہ پیوند لگا کرتا، پھٹا ہوا عمامہ سر پر، پھٹی ہوئی جوتیاں پاؤں میں اور حالت یہ کہ کاندھے پر مشکیزہ اٹھائے جا رہے ہیں کہ کسی بیوہ عورت کے گھر پانی پہنچانا ہے۔بارہا ایسا دیکھا گیا کہ مسجد میں خاک کے فرش پر پڑے سو رہے ہیں کہ سارا دن کام کرتے کرتے تھک گئے تھے اور نیند کی جھپکی آگئی تھی۔ مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے مکہ کا سفر متعدد بار کیا لیکن مجال ہے کہ کبھی خیمہ ساتھ رکھا ہو۔ کہیں تھک کر آرام کرنا ہوتا تو ایک چادر درخت پر ڈال کر اسی کے سائے میں آرام کر لیا کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ کا روزانہ کا خرچ دس روپے تھا (آج کے دس روپے ورنہ جن روایات میں آیا ہے وہاں دس آنے بنتا ہے) ایک بار ایک شخص ملنے آیا اور دیکھا کہ حضرت عمر بھاگے پھرتے ہیں اس شخص کو دیکھا تو بولے کہ آؤ تم بھی، بیت المال کا ایک اونٹ بھاگ گیا ہے جانتے بھی ہو کہ اس میں کتنے غریبوں کا حق شامل ہے؟ اس نے کہا امیر امومنین حکم کریں کوئی غلام ڈھونڈ لائے گا، فرمایا مجھ سے بڑھ کر کون غلام؟

ایک بار کیا ہوا کہ منبر پر آئے اور کہا کہ صاحبو ایک بار میں اتنا نادار تھا کہ لوگوں کو پانی بھر لا دیا کرتا تھا اور وہ بدلے میں مجھے چھوہارے دے دیا کرتے تھے۔ یہ کہا اور منبر سے اتر گئے۔ لوگوں کو حیرت ہوئی کہ یہ کیا بتانے کی بات تھی؟ فرمایا طبیعت میں ذرا غرور آگیا تھا یہ اس کی دوا تھی۔ تئیس ہجری میں حج کیا، وہ زمانہ تھا جب اسلام چاروں طرف کی ظالمانہ حکومتوں کو روند کر نئی فتوحات کے دروازے کھول رہا تھا۔ حضرت عمر نے کچھ باریک پتھر اکٹھے کئے، ان کا تکیہ بنایا اور اس پر سر رکھ کر زمین پر ہی لیٹ گئے۔ پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ اے اللہ  میری عمر اب زیادہ ہو گئی اور میرے قویٰ کمزور ہو گئے اب مجھے دنیا سے اٹھا لے۔

اس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ اور بہترین حکمران بھلا کیا ہوگا؟ شام کا سفر کیا تھا راستے میں ایک جگہ رک کر کسی حاجت کی غرض سے گئے، واپس آکر اپنے غلام اسلم کے گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ لوگ اسلم کی طرف دیکھتے تھے اور اسلم اشارے سے بتاتے تھے کہ امیر المومنین یہ ہیں۔ لوگ حیران ہوتے جاتے تھے اور حضرت عمر کہتے تھے یہ جاہ و جلال کی طرف دیکھتے ہیں لیکن یہاں جاہ و جلال کہاں۔

یہ تھے عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔اس وقت کا وقت گواہ ہے اور اب ہم گواہ ہیں کہ واقعی یا عمر آپ سے بہتر انسان اس امت کا افسر کبھی ہو نہیں سکتا تھا۔ سلاماً یا عمر الفاروق۔

Comments