غزوہ خیبر، 7 ہجری

پس منظر:

اس جنگ کے پس منظر میں بہت سارے واقعات ہیں اور بہت ساری وجوہات ہیں، بنو قریظہ کے جلا وطن ہو جانے کے بعد خیبر یہودیوں کا گڑھ بن چکا تھا، اسلام مخالف ہر قسم کی سازشیں یہیں پیدا ہوتی تھیں۔ حئی بن اخطب قریظہ کے ساتھ جنگ میں مارا گیا تھا اب اس کی جگہ ابو رافع سلام بن  ابی الحقیق اس کا جا نشین مقرر ہوا جس نے قبیلہ غطفان کے پاس جاکر اسلام مخالف سازشیں کیں اور ایک فوج تیار کی جس نے مدینہ پر حملہ کرنا تھا لیکن سلام سوتے ہوئے قتل ہوا اور اس کی جگہ  اسیر بن رزام مسند پر بیٹھا اور اس نے مدینہ پر حملے کی تیاریاں شروع کیں۔ آپ ﷺ کو علم ہوا تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ کو حالات کی خبر لینے کے لئے بھیجا جنہوں نے تمام حالات اسیر کی زبانی سن کر آپ ﷺ کو آکر بتائے۔آپ ﷺ نے تیس آدمی حضرت عبداللہ بن رواحہ کے ساتھ بھیجے، یہ سفارت اسیر کے پاس پہنچی اور اسے خیبر کی حکومت دینے کی یقین دہانی کروائی، اسیر بھی تیس آدمیوں کے ساتھ مدینہ کی طرف چلا اور احتیاط کی غرض سے ایک مسلمان کے ساتھ ایک یہودی موجود تھا لیکن راستے میں اسیر کی نیت خراب ہو گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں گروہ آپس میں لڑ پڑے اور یہودیوں میں سے سوائے ایک کے اور کوئی باقی نہ بچا۔ یہ واقعات 6 ہجری کے اواخر یا 7 ہجری کے شروع میں پیش آئے تھے۔

اس کے بعد ذی قرد کا واقعہ پیش آیا۔ ذی قرد آپ ﷺ کی اونٹنیوں کی چراگاہ تھی، قبیلہ غطفان کے کچھ آدمی وہاں آئے حملہ کیا اور آپ ﷺ کی بیس اونٹیاں لے گئے۔ حضرت ابو ذر کے بیٹے وہاں حفاظت پر مامور تھے ان کو قتل کر دیا اور ان کی بیوی کو اغوا کر کے لے گئے۔ ایک صحابی جن کا نام حضرت سلمہ تھا وہاں موجود تھے جنہوں نے سب سے پہلے یہ دیکھا اور نعرے مارتے ہوئے جا کر حملہ آوروں پر چڑھ گئے۔ وہ اونٹنیوں کو پانی پلا رہے تھے، حضرت سلمہ نے تیر برسانے شروع کئے تو حملہ آور بھاگ نکلے ادھر یہ مار دھاڑ کرتے ہوئے اونٹنیاں چھڑا لائے اور آپ ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کی کہ ان کو پیاسا چھوڑ آیا ہوں،  اگر سو آدمی اور ہوں تو ایک ایک کو گرفتار کر کے لاتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر قابو پا لو تو عفو سے کام لو۔

غزوہ خیبر:

یہ وہ چند واقعات تھے جن کی بنا پر خیبر سے جنگ نا گزیر ہو چکی تھی، سفارت بھیجی گئی کہ صلح کر لی جائے لیکن یہاں بھی یہودیوں نے بد عہدی کی۔ محرم 7 ہجری میں آپ ﷺ مدینہ سے نکلے۔ فوج کی تعداد سولہ سو جس میں دو سو سوار اور باقی سب پیدل تھے۔حضرت صباع بن عرفطہ غفاری مدینہ پر مقرر ہوئے۔ یہ پہلی جنگ تھی جس میں علَم استعمال ہوئے۔ تین علم تیار کئے گئے جن میں سے ایک  حضرت حباب بن منذر، ایک حضرت سعد بن عبادہ کو دیا گیا جبکہ علم نبوی ﷺ جس کا پھریرہ حضرت عائشہ رضی اللہ کی چادر سے تیار ہوا تھا حضرت امیر رضی اللہ کو سونپا گیا۔ راستے میں ایک میدان میں صحابہ کرام نے زور سے تکبیر کا نعرہ مارا جس پر آپ ﷺ نے تلقین کی کہ آہستہ تم کسی بہرے یا نظر سے دور شخص کو نہیں بلاتے، جس کو بلاتے ہو وہ پاس ہی ہے۔

خیبر میں چھ قلعے تھے جن کے نام  یہ ہیں: سالم، قموص، نطاۃ، قصارۃ، شق، امر بط۔ ان میں قموص سب سے مضبوط تھا اور اس کا حاکم عرب کا مشہور پہلوان مرحب تھا جو ہزار سوار کے برابر مانا جاتا تھا۔مسلمانوں کی آمد کا سن کر یہودی ہتھیار سجا کر نکلے تھے لیکن جب ان کو علم ہوا کہ ان کا اپنا گھر خطرے میں ہے تو واپس خیبر کی طرف گئے۔آپ ﷺ نے مقامِ رجیع میں فوجیں اتاریں، خیمے، مستورات اور بار برداری کا سامان یہاں اتار دیا گیا جبکہ اصل لشکر نے خیبر کا رخ کیا۔ خیبر کے قریب صہبا کے مقام پر پہنچ کر نمازِ عصر ادا کی گئی اور اس کے بعد کھانہ طلب کیا جو کہ ستو پر مشتمل تھا، آپ ﷺ نے باقی صحابہ کے ساتھ ستو ہی پانی میں گھول کر نوش فرمایا۔ رات ہوتے ہوتے لشکر خیبر کے قریب پہنچ گیا تھا اور عمارتیں نظر آنے لگی تھیں، آپ ﷺ نے رکنے کا حکم دیا اور یہاں رک کر دعا فرمائی۔ سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق رات کے وقت حملہ نہیں کیا جاتا، صبح ہوئی تو شہر کی طرف پیش قدمی کی گئی۔

یہودیوں نے رسد اور غلہ قلعہ ناعم میں جمع کیا جبکہ فوجیں قموص اور نطاۃ میں اکٹھی کی گئیں۔ لشکر اسلام کا ارادہ جنگ کا نہ تھا لیکن یہودیوں نے ساز و سامان سے تیاری کی تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو جہاد پر خطبہ دیا۔ حضرت محمود بن مسلمہ نے بڑی دلیری سے قلعہ ناعم پر حملہ کیا، گرمی بہت زیادہ تھی اس لئے قلعہ کی فصیل کے سائے میں بیٹھ گئے لیکن اوپر سے چکی کے پاٹ پھینکے جانے سے شہید ہوئے، قلعہ البتہ جلد ہی فتح ہو گیا تھا۔ اسی طرح باقی قلعے بھی جلدی فتح ہو گئے لیکن قموص فتح نہ ہو سکا۔ اس قلعہ کی مہم پر حضرت عمر رضی اللہ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ کو بھیجا گیا لیکن دونوں کو کامیابی نہ ہوئی۔ان کے علاوہ بڑے بڑے صحابی بھی گئے لیکن یہ قلعہ فتح نہ ہو سکا۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کو بھیجوں کو جس کے ہاتھ سے یہ قلعہ فتح ہوگا، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو چاہتا ہے اور جسے اللہ اور اس کا رسول ﷺ چاہتے ہیں۔یہ رات وہ رات تھی جو ہر صحابی نے آنکھوں میں کاٹی، کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ فخر کس کے نصیب میں آنے والا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ نے کبھی خلافت یا افسری کی خواہش نہیں کی لیکن ان کا خود بیان ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ یہ شرف ان کے نصیب میں آئے۔ صبح ہوئی تو جو آواز سب کے کانوں نے سنی وہ یہ تھی: "علی رضی اللہ کہاں ہیں؟”، یہ غیر متوقع تھا کیوں کہ ان دنوں حضرت علی آشوبِ چشم میں گرفتار تھے۔

آپ ﷺ نے حضرت علی کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا اور ان کو علم دیا۔حضرت علی نے عرض کی کہ کیا یہود کو لڑ کر مسلمان بنا لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا بہ نرمی ان پر اسلام کو پیش کرو اگر ایک بھی انسان تمہاری وجہ سے مسلمان ہوا تو سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ ادھر مرحب رجز پڑھتا ہوا نکلا، اور بڑے طمطراق سے نکلا تھا لیکن حضرت علی کی تلوار کا ایک وار اس کے سر پر پڑا اور کاٹتا ہوا دانتوں تک آگیا۔ مرحب نے خود پہن رکھا لیکن تلوار خود کو کاٹتی ہوئی اس کے دانتوں تک آگئی۔

کئی جگہ یہ واقعہ ہے کہ عام حملے کے دوران حضرت علی سے ان کا سپر چھوٹ گیا اور انہوں نے قلعے کے دروازے کو اکھاڑ کر سپر کے طور پر استعمال کیا جسے بعد میں سات افراد نے مل کر اٹھایا تو اٹھایا نہیں گیا، اس واقعے کی کوئی سند نہیں ہےیہ صرف قصے ہیں جو لوگوں نے خود پھیلائے ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی نے سیرت النبی ﷺ میں ایسے واقعات کو بازاری قصے لکھا ہے۔

اس لڑائی میں 93 یہودی مارے گئے جبکہ صحابہ کرام میں سے 15 نے شہادت حاصل کی۔خیبر کی زمین تقسیم کی گئی لیکن خیبر کے رہنے والوں نے گذارش کی کہ زمین ایسے ہی رہنے دی جائے ہم پیداوار کا ںصف ادا کیا کریں گے۔ آپ ﷺ نے منظور فرمایا اور بٹائی کے وقت آپ ﷺ حضرت عبداللہ بن رواحہ کو بھیج دیتے جو فصل کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد کہتے کہ جو حصہ چاہو لے لو۔ لوگ حیران ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ بلا شبہ زمین اور آسمان ایسے ہی عدل کی وجہ سے قائم ہیں۔ آپ ﷺ فتح کے بعد کچھ عرصہ تک خیبر میں مقیم رہے، تمام تر امن و امان کے باوجود بھی یہودیوں کی سازشیں ختم نہ ہوتی تھیں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جب آپ ﷺ اور صحابہ کو زینب جو کہ مرحب کی بھاوج تھی نے کھانے کی دعوت دی اور کھانے میں زہر ملا دیا۔ آپ ﷺ نے ایک نوالہ لینے کے بعد کھانے سے ہاتھ روک لیا جبکہ حضرت بشر ایک صحابی تھے انہوں نے پیٹ بھر کر کھایا۔ بعد میں زینب نے جرم کا اقرار کیا لیکن ذاتی طور پر آپ ﷺ نے اس کو معاف فرمایا لیکن حضرت بشر کی وفات کے بعد ان کے قصاص میں قتل کی گئی۔

اس غزوہ میں خواتین نے بھی حصہ لیا تھا، آپ ﷺ کو علم ہوا تو غصے میں فرمایا کہ تم یہاں کیوں آئیں کس کی اجازت سے آئیں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ہم اس لئے آئیں کہ چرخہ کات کر کچھ پیدا کریں گی، ہمارے پاس زخمیوں کے لئے مرہم اور دوائیں بھی ہیں اور ان تیر اکٹھے کریں گی۔لڑائی کے بعد ان مستورات میں بھی مالِ غنیمت تقسیم کیا لیکن یہ مالِ غنیمت کسی قسم کی دنیاوی دولت نہیں تھی بلکہ کھجوریں تھیں جو عام صحابہ میں تقسیم کی گئیں وہی ان کے حصے میں بھی آئیں۔

واللہ اعلم بالثواب

Comments