ہجرت نبوی ﷺ 1 ہجری

نبوت کا تیرھواں برس شروع ہو چکا تھا، کفار کے مظالم سے تنگ آکر کئی صحابہ مدینہ ہجرت کر چکے تھے لیکن آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم کا انتظار فرما رہے تھے۔ آس پاس کے کچھ رؤسا نے جو مسلمان ہو چکے تھے حفاظت کی پیش کش کی لیکن یہ شرف اللہ نے مدینہ کے انصار کے حصے میں لکھ دیا تھا۔ آپ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ ہجرت کرجانے والی جگہ ایک سر سبز مقام ہے، خیال تھا کہ یہ جگہ یمامہ یا ہجر ہوگی لیکن وہ شہر مدینہ نکلا۔ ادھر کفار کی مجلس شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ تمام قبائل سے ایک ایک شخص مل کر دھاوا بولے اور نعوذ باللہ آپ ﷺ کو قتل کر دیا جائے اس طرح خون تمام قبائل میں بنٹ جائے گا اور بنو ہاشم بدلہ نہیں لے سکیں گے۔ آپﷺ کو اس کی پہلے ہی خبر ہو چکی تھی۔ آپ ﷺ کے پاس ہجرت کے وقت بھی کئی امانتیں موجود تھیں، حضرت علی کو بلایا اور ساری بات بتا کر فرمایا کہ میرے پلنگ پر سوئے رہنا صبح ہو تو سب کی امانتیں ان کو واپس کر دینا۔ حضرت علی نے دل و جاں سے قبول فرمایا۔

دو یا تین دن قبل آپ ﷺ حضرت ابو بکر سے ملے اور ان کو فرمایا کہ مجھے ہجرت کا حکم ہوا ہے، حضرت ابو بکر رضی اللہ نے بے تاب ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ میرا باپ آپ پر فدا، کیا مجھے ہمراہی کا شرف حاصل ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔حضرت ابو بکر نے اس موقع کے لئے دو اونٹنیاں ببول کے پتے کھلا کر پالی تھیں، آپ ﷺ کو دکھائیں اور کہا کہ ان میں سے ایک آپ پسند فرمائیں۔آپ ﷺ نے احسان لینا گوارا نہ کیا اور اونٹنی کی قیمت مجبوراً حضرت ابو بکر کو لینا پڑی۔ حضرت اسماء جو کہ حضرت عائشہ کی بڑی بہن بھی ہیں نے تین دن کا کھانہ تیار کیا۔ نطاق ایک کپڑا ہے جسے خواتین کمر سے لپیٹتی تھیں اس کو پھاڑ کر ناشتے دان کا منہ ڈھانپا جس بنا پر آج تک ان کو ذات النطاقین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

ہجرت کا وقت آیا تو اس سے پہلے کفار آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ عرب میں زنانہ گھر میں جانا معیوب سمجھا جاتاتھا اس لئے سب نے باہر ہی آپ ﷺ کا انتظار کیا لیکن یہاں معاملہ کسی اور کا نہیں خود اللہ کے محبوب کی حفاظت کا تھا۔ کفار کو اللہ نے بے خبر کر دیا۔ آپ ﷺ کفار کو سوتا چھوڑ کر باہر نکلے، خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر فرمایا مکہ! تو مجھ کو تمام دنیا سے زیادہ عزیز ہے لیکن تیرے فرزند مجھے رہنے نہیں دیتے۔یہاں سے نکلے اور تین روز تک جبلِ ثور میں پوشیدگی اختیار کی۔ رات کو حضرت عبداللہ جو حضرت ابو بکر کے بیٹے تھے ان کے ساتھ سوتے جبکہ دن میں قریش کی خبریں لاکر پہنچاتے تھے۔حضرت ابو بکر کا غلام رات گئے بکریاں چرا کر لاتا اور آپ ﷺ اور حضرت ابو بکر دودھ پی کر گزارا کرتے غرض اسی طرح تین دن گزر گئے۔

ادھر حضرت علی کو جب رسول اللہ ﷺ کی جگہ دیکھا تو کفار نے ان کو کچھ دیر محبوس رکھ کر چھوڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر چوتھے روز جبلِ ثور سے باہر نکلے۔ ایک دن اور ایک رات برابر چلتے رہے، ایک کافر اجرت پر راہنما کے طور پر ساتھ لیا، ایک دن دھوپ بہت تیز تھی تو ایک جگہ سائے دار چٹان تلاش کی وہاں زمین جھاڑ کر اس پر کپڑا بچھایا اور آپ ﷺ نے اس پر آرام فرمایا جبکہ حضرت ابو بکر خودکھانے کی تلاش میں نکلے، ایک چرواہا ملا اس سے کہا کہ ایک بکری کے تھن دھو کر صاف کر دے پھر اس کے ہاتھ دھلوائے اور دودھ نکلوا کر ایک برتن میں جمع کیا اوراس پر کپڑا ڈالا کہ گرد نہ داخل ہو، آپ ﷺ نے وہ دودھ نوش فرمایا پھر پوچھا کہ چلنے کا وقت نہیں ہوا؟ دھوپ ذرا کم ہوئی تو آگے کا سفر شروع ہوا۔

قریش نے اعلان کیا کہ جو محمد ﷺ کو گرفتار کر کے لائے گا اس کو ایک خون بہا کے برابر یعنی سو اونٹ دئیے جائیں گے۔ ایک شخص جس کا نام سراقہ تھا لالچ میں نکلا اور اتفاق سے آپ ﷺ کو دیکھ لیا۔قریب آیا لیکن گھوڑے نے تھوکر کھائی اور گر گیا، اس نے تیر نکال کر قرعہ ڈالا کہ حملہ کرنا چاہئے یا نہیں لیکن جواب نہیں میں تھا۔ پھر سوار ہوا اور آگے بڑھا لیکن اس بار گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے، پھر تیر نکال کر قرعہ ڈالا جواب اب کی بار بھی نہیں میں تھا اس لئے ارادے سے باز آیا اور آپ ﷺ سے درخواست کی کہ امن کی تحریر لکھ دیں جو حضرت ابو بکر کے غلام نے چمڑے پر لکھ کر دی۔ راستے ہی میں حضرت زبیر تجارت سے آتے ہوئے ملے جنہوں نے کچھ بیش قیمت کپڑے آپ ﷺ کو پہننے کے لئے پیش کئے۔ راستے کی جن منازل سے گزرے وہ اب موجود نہیں سوائے ایک رابغ کے جو حجاج کرام کے راستے کی ایک منزل ہے باقی منازل کے صرف نام موجود ہیں وہ یہ ہیں خرار، لقف، مدلجۃ، مرحج، حدائد، اذاخر، جدوات، قاحہ، عرج، عقیق، رکوبۃ، ججاتہ۔

ادھر مدینہ میں یہ حال تھا کہ بچے، بوڑھے، خواتین  شہر سے باہر نکل کر انتظار کرتے اور دوپہر کو حسرت لئے واپس چلے جاتے۔ چھوٹے بچے جوش میں کہتے تھے کہ "پیغمبر آرہے ہیں”۔ ایک دن ایسے ہی انتظار کر کے سب واپس جا چکے تھے کہ ایک یہودی نے قلعہ سے دیکھا اور جب پہچان لیا کہ آپ ﷺ ہی ہیں تو پکارا کہ لو اہلِ عرب جن کا تم انتظار کرتے تھے وہ آگئے۔ پورا شہر تکبیر کی آواز سے گونج اٹھا، انصار تھے کہ ہتھیار سجا سجا کر شہر سے باہر نکل رہے تھے۔مدینہ سے تین میل پر ایک آبادی ہے اسے عالیہ اور قبا کے نام سے جانتے ہیں یہاں انصار کے خاندان آباد تھے جن میں عمرو بن عوف کا خاندان کافی ممتاز تھا، آپ ﷺ یہاں پہنچے تو تمام خاندان نے خوشی میں اللہ اکبر کا نعرہ لگایا یہ شرف اسی خاندان کو ھاصل ہوا تھا کہ رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے یہاں آکر رکے۔

آمد کے بعد سب سے پہلا کام تھا مسجد کی تعمیر، حضرت کلثوم کی ایک زمین تھی جہاں کھجوریں سکھائی جاتی تھیں وہیں آپنے اپنے ہاتھ سے مسجد کی بنیاد رکھی۔ آپ ﷺ عام مسلمانوں کے ساتھ پتھر اٹھا کر تعمیر میں حصہ لیتے تھے، پتھر اٹھاتے تو جسم میں خم آجاتا، لوگ کہتے تھے یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا آپ رہنے دیں ہم اٹھا لیں گے۔آپ ﷺ ان کی بات مان لیتے لیکن پھر اسی وذن کا پتھر اٹھا کر شامل ہو جاتے۔ چونکہ مزدور کام کرتے وقت تھکن مٹانے کے لئے گاتے جاتے تھے اس لئے وہاں موجود حضرت عبد اللہ بن رواحہ جو کہ شاعر تھے وہ یہ اشعار پڑھتے تھے۔

وہ کامیاب ہے جو مسجد تعمیر کرتا ہے

اور اٹھتے بیٹھتے قرآن پڑھتا ہے

اور رات کو جاگتا رہتا ہے

آپ ﷺ ہر قافیے کے ساتھ آواز ملاتے جاتے تھے۔14 روز بعد جمعہ کے دن آپ ﷺ قبا سے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں بنی سالم کے محلہ میں نمازِ جمعہ ادا کی اور خطبہ دیا، یہ پہلی نمازِ جمعہ تھی اور آپ ﷺ کا پہلا خطبہ تھا۔ یہاں لوگوں کو خبر ہوئی تو جوق در جوق وہاں پہنچے، بنو نجار آپ ﷺ کے ننہالی رشتے دار تھا وہ ہتھیار سجا سجا کر آئے۔ مدینہ تک راستے میں جان نثاران کی صفیں دونوں طرف موجود تھیں، لوگ آتے تھے کہتے تھےحضور ﷺ یہ گھر ہے، یہ مال ہے یہ جان ہے۔آپ ﷺ دعائے خیر کرتے تھے۔ مدینہ قریب آیا تو خواتین بھی  گھروں کی چھتوں پر نکل آئیں اور گانے لگیں۔

ظلع البدر علینا

چاند نکل آیا ہے

من ثفیات الوداع

کوہِ وداع کی گھاٹیوں سے

وجب الشکر علینا

ہم پر خدا کا شکر واجب ہے

ما دعی للہ داعی

جب تک دعا مانگنے والے دعا مانگیں

لوگ بے تاب تھے کہ میزبانی کا شرف کس کو حاصل ہوتا ہے لیکن یہ شرف حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ کے حصے میں آیا۔ دو منزلہ مکان کی نیچے والی منزل آپ ﷺ نے قیام کے لئے منتخب کی۔ حضرت ابو ایوب دو وقت کا کھانہ آپ ﷺ کو پہنچا کر جاتے، آپ ﷺ کے ہاتھ سے جو کھانہ بچ جاتا وہ حضرت ابو ایوب اور ان کی زوجہ کے حصے میں آتا تھا۔آپ ﷺ نے سات ماہ تک یہاں قیام فرمایا اس دوران مسجدِ نبوی ﷺ تعمیر ہوئی تو آپ ﷺ وہاں منتقل ہو گئے۔ بعد ازاں حضرت زید کو بھیجا گیا جو حضرت فاطمہ رضی اللہ، ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ اور حضرت سودہ رضی اللہ کو لے کر آئے، جبکہ حضرت رقیہ حضرت عثمان کے ساتھ حبش میں تھیں اور حضرت زینب کو ان کے شوہر نے آنے نہ دیا۔ حضرت عائشہ بعد میں اپنے  بھائی عبد اللہ رضی اللہ کے ساتھ مدینہ آئیں۔

واللہ اعلم بالثواب

Comments