تقسیمِ غنائم غزوہ حنین 8 ہجری

حنین کے اختتام پر آپ ﷺ جعرانہ تشریف لے آئے۔ غنیمت کا مال بہت زیادہ تھا اس میں چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار سے زیادہ بکریاں  اور چار ہزار اوقیہ چاندی شامل تھی۔ کئی دن تک اسیرانِ جنگ کے لواحقین کا انتظار کرنے کے بعد بھی کوئی نہ آیا تو مالِ غنیمت کے حصے کئے گئے۔چار حصے فوج میں تقسیم کئے گئے جبکہ پانچواں بیت المال اور غرباء کے لئے رکھا گیا۔ اس میں یہ خاص خیال رکھا گیا کہ مکہ کے وہ رؤسا جنہوں نے حال ہی میں فتح مکہ  میں اسلام قبول کیا تھا اور جن کو قرآن نے مولفۃ القلوب کہا ہے ان کو آپ ﷺ نے انعامات سے فیاضانہ طور پر نوازا جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔۔

ابوسفیان کو 300 اونٹ اور 120 اوقیہ چاندی، حکیم بن حزام کو دو سو اونٹ، نضیر بن حارث، صفوان بن امیہ، قیس بن عدی، سہیل بن عمرو، حویطب بن عبدالعزیٰ،  ان کا تعلق مکہ سے تھا اور ان کو سو سو اونٹ دئیے گئے۔ اس کے علاوہ معتدد افراد کو پچاس پچاس اونٹ دئیے گئے جبکہ عام فوج میں فی کس چار اونٹ اور چالیس بکریاں تھیں جبکہ سوار کو تگنا ملا تھا اس لحاظ سے سوار کے حصے میں بارہ اونٹ اور ایک سو بیس بکریاں فی کس آئیں۔

یہاں انصار کو رنج ہوا کہ ہم تو کب سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں پھر بھی انعامات کی بارش ان پر، بعض نے کہا کہ ہماری تلواروں سے اب تک قریش کا لہو ٹپک رہا ہے  جبکہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کو انعام دیا۔ بعض نے کہا کہ مشکلات میں ہماری ضرورت ہوتی ہے غنیمت اوروں کو ملتی ہے۔آپ ﷺ نے یہ سب سنا تو انصار کو طلب کیا گیا، ایک چرمی خیمہ نصب کیا اور وہاں آپ ﷺ نے انصار سے پوچھا کیا تم لوگوں نے ایسا کہا؟ انصار نے جواب دیا کہ ہمارے سربر آوردہ لوگوں میں سے کسی نے نہیں کہا، کچھ نوجوانوں نے کہا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ کی ایک روایت بھی ہے کہ آپ ﷺ نے انصار سے پوچھا کیا یہ واقعہ ہے؟ تو انصار چونکہ جھوٹ نہیں بولتے تھے  اس لئے انہوں نے کہا کہ ایسا ہی ہے۔ آپ ﷺ نے یہاں ایک خطبہ دیا۔۔

انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا یہ سچ نہیں کہ تم گمراہ تھے اللہ نے میرے ذریعے تم کو ہدایت دی؟ تم منتشر اور پراگندہ تھے اللہ نے میرے ذریعے تم میں اتفاق پیدا کیا؟ تم مفلس تھے خدا نے میرے ذریعے تم کو دولت مند کیا؟ آپ ﷺ یہ فرماتے جاتے تھے اور انصار ہر فقرے پر کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا احسان سب سے بڑھ کر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں!، تم یہ جواب دو کہ اے محمد تجھ کو جب لوگوں نے جھٹلایا تو ہم نے تیری تصدیق کی، تجھ کو جب لوگوں نے چھوڑ دیا تو ہم نے تجھ کو پناہ دی، تُو مفلس آیا تھا ہم نے ہر طرح کی مدد کی۔،پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم یہ جواب دیتے جاؤ اور میں کہتا جاؤں گا  کہ تم سچ کہتے ہوں لیکن اے انصار کیا تم کو یہ پسند نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لیکر جائیں اور تم محمد ﷺ کو لے کر اپنے گھر جاؤ؟

اب انصار کا حال یہ تھا کہ چیختے تھے کہ نہیں ہمیں کو رسول اللہ ﷺ ہی درکار ہیں بعض تو اتنا روئے کہ داڑھیاں تر ہو گئی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اہلِ مکہ جدید الاسلام ہیں میں نے ان کو جو کچھ دیا حق کے طور پر نہیں دیا بلکہ تالیفِ قلب کے لئے دیا۔

واللہ اعلم بالثواب۔۔

Comments