میرا پہلا روزہ؟

کہتے ہیں کہ پیدائش کے بعد تین یا چار برس تک کی یادیں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ذہن سے محو ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اللہ جانے اس میں کتنی صداقت ہے۔ میرے ذہن میں بھی بچپن کی یادوں کا ایک جار سا بچھا ہوا ہے۔ کچھ یادیں تو اس قدر طاقتور ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اب بھی وہیں موجود ہوں، وہی صحن ہے، وہی چارپائی ہے اور میری والدہ بیٹھی ہوئی ہیں یا گھر کا برآمدہ ہے اور میں تین پہیوں والی سائیکل چلائے یہاں وہاں گھومتا پھر رہا ہوں جبکہ بعض یادیں اس قدر دھندلا چکی ہیں کہ مجھے خود شک ہے کہ یہ یادیں میری ہیں بھی یا نہیں۔ پہلے روزے کے بارے میں بتہیرا ذہن پر زور دیا کہ کچھ یاد آجائے لیکن مجال ہے کہ اس وقت سے کچھ نکل کر آنکھوں کے سامنے آیا ہو۔ پھر لاشعور کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس نے کچھ یادیں ریفرینس کے طور پر ہمارے سامنے رکھیں کہ میاں یہی کچھ ہے دیکھ لو جو اس سے کچھ مدد ملے۔

میں چار برس کا تھا جب ایک محترم استانی نے مجھے لکھنا پڑھنا سکھایا، میں ان کا احسان مند ہوں کہ آج ان کی وجہ سے سینکڑوں لوگ مجھے پڑھتے ہیں اور وہ میری محسن ہیں۔ پانچ برس کا ہوا تو والد صاحب ہاتھ پکڑ کر لے گئے اور سکول کے پرنسپل کے سامنے لا کر بٹھا دیا۔ ان کو جب پتا چلا کہ میری استانی صاحبہ کون ہیں تو ان کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ تھے "یہاں بھی وہی اس کو پڑھائیں گی”  اور یوں پرنسپل کے کمرے سے لیکر جماعت میں داخل ہونے تک ، سکول کا وہ حال کمرہ جہاں سے گزر کر جماعت میں جاتے تھے اور وہ جماعت جہاں سرخ رنگ کا فرنیچر موجود تھا مجھے سب یاد ہے لیکن پہلا روزہ کب رکھا تھا؟ سوال وہیں کا وہیں ہے۔

غالباً سات یا آٹھ برس کا تھا جب شوقیہ روزہ رکھنے کی فرمائش کی۔ والد صاحب نے یاد دہانی کروائی کہ روزہ رکھنا ہے تو توڑنا بالکل نہیں بہت گناہ ہوتا ہے۔ سردیوں کے دن تھے اور شوق سر پر سوار تھا اس لئے پہلا روزہ تو گزر گیا اور پتا بھی نہیں چلا۔ گھر میں عموماً یہ پوچھا جاتا تھا کہ "روزہ رکھا ہے؟” جواب ہاں میں پاکر اگلا سوال داغا جاتا تھا "کہاں رکھا ہے؟” اور ہمارا جواب کبھی یہ کہ "دراز میں رکھا ہے” یا کبھی یہ کہ "پیٹی میں رکھا ہے” اور والدہ اکثر بہلانے کو کہتی تھیں کہ جاؤ بھاگ کر جاؤ اور دیکھ کر آؤ کہ روزہ وہاں ابھی تک رکھا بھی ہے یا نہیں۔ شروع کے روزے تو خیر سے بڑے اچھے گزرے لیکن جب علم ہوا کہ یہ کاروبار تو مہینہ چلنا ہے تو شوق آہستہ آہستہ بیٹھتا گیا۔ سردیوں میں "گرمیوں” والی پیاس لگنے لگی اور ہم ٹھنڈے پانی کی کُلی کرنے کے بہانے دو چار گھونٹ پانی کے ویسے ہی حلق سے اتار جاتے تھے کہ کس کو پتا چلنا ہے ؟ اور یوں روزے میں کافی آسرا ہو جاتا تھا۔

سحری میں اٹھنا بھی اس وقت ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھا۔ روز اٹھنا، نفل پڑھنے پھر سحری کھانی اور اس کے بعد ایک پارہ مکمل کر کے نماز کا انتظار کرنا یا امتحان کے دنوں میں سکول جانے تک کتابیں لیکر بیٹھے رہنا وہ ایک وقت تھا جو گزر گیا، اب اس وقت کو یاد کر سکتے ہیں یا ان لوگوں کو جو اس وقت ساتھ تھے جن کی وجہ سے پانچوں وقت کی نماز بے شک ڈنڈے کے ڈر سے ہی لیکن پڑھی جاتی تھی جو ہر رمضان میں قرآن مجید کے ختم کا باعث بنتے تھے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

پھر افطاری کا وقت بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ اس قدر خوشی کا باعث جیسے کوئی خزانہ ہاتھ لگنے والا ہو۔ خاص کر آخری کچھ منٹ تو ایسے ہی ہوا کرتے تھے۔ زمین پر چٹائی بچھا کر سب نے بیٹھنا، افطار سے قبل دعا کرنی اور والد صاحب خصوصی طور پر افطاری کی دعا یاد کرواتے اور کھجور کھانے سے قبل سب کو سرکاری طور پر حکم تھا کہ افطاری کی دعا با آوازِ بلند پڑھی جائے۔ اور پھر خزانہ مل ہی جاتا تھا۔ مختلف قسم کے کھانے جو صرف رمضان کی برکت سے پورا مہینہ دسترخوان پر موجود ہوتے تھے۔ بھلا ایسی عیاشیاں رمضان کے بغیر ملتی ہیں؟

مہینہ گزرتے آجکل تو پتا نہیں چلتا۔ ابھی کل ہی پہلا روزہ تھا آج اٹھارہ گزر چکے ہیں لیکن معلوم نہیں کیا تبدیل ہو گیا ہے۔ بڑے ہونے سے فرق پڑا یا ہماری prioritiesبدل  گئیں کہ اب عید کے لئے وہ ساری ساری رات خوشی میں جاگنا نصیب نہیں ہوتا۔ بچپن یاد کریں تو مجھے اچھی طرح یاد ہے مفتی منیب الرحمان کے اعلان کی دیر تھی اور نیندیں اڑ جاتی تھیں کہ صبح عید ہے۔ انتطار مشکل ہوتا تھا کہ کسی طور صبح ہو جائے اورعید دیکھ سکیں۔

یہ بچپن کے دن تھے جو ماضی کا حصہ بن گئے ہیں۔ میں البتہ ایک بات جانتا ہوں نوے کی دہائی تک پیدا ہونے والی نسل جانتی ہے کہ ان خوشیوں کی کیا قیمت تھی اس کے بعد۔۔۔۔۔

Comments