اوس اور خزرج کا قبولِ اسلام، بیعتِ عقبہ اول اور بیعت عقبہ ثانی (10 نبوی تا 13 نبوی ﷺ)

یہ ہجرت مدینہ سے پہلے کی بات ہے۔ مکہ میں کفار، مسلمانوں بالخصوص رسول اللہ ﷺ  کو بہت تنگ کرتے تھے۔ہجرت نبوت کے تیرھویں برس ہوئی جبکہ نبوت کے دسویں برس سے تیرھویں برس تک آپ ﷺ مکہ میں آنے والے قبائل کو اسلام کی دعوت دینے پر زور دیتے تھے، باہر کے قبائل کو اسلام کی دعوت خصوصاً حج کے موقع پر دی جاتی تھی۔ یہ حج ہی کے وقت کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبائل کو اسلام کے بارے بتا رہے تھے جب ابو لہب آیا اور اس نے کہا کہ یہ میرا بھتیجا ہے میں اسے جانتا ہوں یہ جھوٹا ہے (نعوذ باللہ)۔ تو باہر کے قبائل کے لئے کی جانے والی کوششیں اثر انداز نہ ہو سکیں لیکن اللہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ایک مکمل شہر کو اسلام  کی طاقت بنانا ہے، ایک ایسی بنیاد ڈالنی ہے جو بعد ازاں پوری دنیا میں اسلام کی اشاعت کا کام کر سکے۔ وہ شہر یثرب  تھا۔

مدینہ میں انصار کے دو بڑے قبائل آباد تھے، یہ دونوں قبائل بنو قحطان کی دو شاخیں تھیں جن کے نام بنو اوس اور بنو خزرج تھے۔بنو خزرج کی مزید دو شاخیں تھیں ایک نام بنو حارث اور ایک کا نام بنو نجار تھا۔ انصار کے ان دو قبائل میں اسلام سے قبل تقریباً ایک صدی سے جنگیں جاری تھیں جو رُکنے کا نام نہ لیتی تھیں۔ ان دو قبائل کے علاوہ  یہود کے تین قبائل آباد تھے جن میں بنو قریظہ، بنو قینقاع اور بنو نضیر شامل تھے۔انصار مدینہ کی جب جب یہودیوں سے لڑائی ہوتی  تو یہودی کہتے  کہ عنقریب ایک نبی آنے والا ہے اور ہمارے ساتھ شامل ہوگا اور پھر ہم واپس تم لوگوں پر حملہ آور ہونگے۔

رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا  کہ وہ مختلف قبائل کو اللہ کی طرف بُلاتے تھے ایک رات آپ ﷺ نے کچھ لوگون کے بات کرنے کی آواز سُنی اور ان کی طرف پہنچے تو دیکھا کہ یثرب کے چھ آدمی موجود ہیں، ان سب کا تعلق  بنو خزرج سے تھا۔ان چھ افراد میں اسعد ابن زرارۃ، عوف ابن الحارث، رافع ابن المالک، قطبہ ابن عامر، عقبہ ابن عامر اور  جابر بن عبداللہ شامل تھے۔آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کا تعلق کہاں سے ہے انہوں نے جواب دیا کہ کہ ہم لوگ خزرج سے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ یہود کے حلیف ہو اور ان افراد کا جواب اثبات میں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور قرآن سنایا۔ وہ چھ کے چھ افراد ایکدوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور کہنے لگے کہ شاید یہی وہ نبی ہیں جن کے بارے یہود ہمیں ڈراتے تھے، کیوں نہ ہم ہی ان کے ساتھ ان کے مذہب میں شامل ہو جائیں اس سے پہلے کہ یہود ان کو ساتھ لے جائیں۔انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اللہ نے چاہا تو اسلام کے ساتھ ہی وہ تمام لڑائیاں اور جھگڑے جو ایک صدی سے انصار کے درمیان چلے آرہے ہیں ختم ہو جائیں گے۔ان چھ افراد نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺ سے وعدہ کیا وہ اسلام کی تعلیم یثرب میں عام کریں گے اور اگلے برس حج کے موقع پر دوبارہ آپ ﷺ نے سے آکر ملیں گے۔ یہ لوگ واپس گئے اور یہ یثرب جو بعد میں مدینہ ہوا میں اسلام ایک مشعل سے دوسری مشعل جلاتا چلا گیا۔

سال گزرا، حج کا موقع آیا، چھ افراد جو اسلام قبول کر کے گئے تھے  جب واپس آئے تو بارہ تھے۔ ان بارہ میں دس افراد بنو خزرج اور دو افراد بنو اوس کے تھے بعض روایات میں نو افراد بنو خزرج کے اور تین افراد بنو اوس کے آیا ہے۔ان بارہ افراد نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی، اس بیعت کو بیعتِ عقبہ اول  کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس بیعت میں بارہ افراد شامل تھے جن کے نام یہ ہیں: ابوامامہ اسعدبن زرارہ، سعدبن ربیع، عبداﷲ بن رواحہ، رافع بن مالک، براء بن معرور، عبداﷲ بن عمرو، سعد بن عبادہ، منذر بن عمر، عبادہ بن ثابت،  اُسید بن حضیر، سعد بن خیثمہ اور ابو الہیثم بن تیہان۔اس بیعت کی شرائط میں لڑائی کے علاوہ دوسری شرائط شامل  تھیں۔ اس بیعت کے عہد یہ تھے:

ہم رسول اللہ ﷺ سے عہد کرتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو معبود نہیں بنائیں گے۔ہم عہد کرتے ہیں  کہ چوری نہیں کریں گے زنا نہیں کریں گے، اپنے بچوں کو قتل نہیں کریں گے، کسی پر جھوٹا دعویٰ نہیں کریں گے، ہم عہد کرتے ہیں کہ کسی بات میں رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی نہیں کریں گے، اس ﷺ نے ہمیں بتایا کہ  اگر ہم اس عہد پر عمل کریں تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ان باتوں میں سے کسی بات کی خلاف ورزی کریں گے تو اس دنیا میں ہمیں اس کی سزا ملے گی جو کہ ہمارے اعمال کی وجہ سے ہوگی اور اگر ہمارے اعمال کو روزِ محشر پر اٹھا رکھا  گیا تو یہ اللہ تعالیٰ پر ہے کہ وہ ہمیں معاف کرتا ہے یا سزا دیتا ہے۔

اس بیعت کے بعد آپ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان فراد کے ساتھ مدینہ کی طرف بھیجا۔ حضرت مصعب بن عمیر بیک وقت  ایک سفیر، ایک مبلغ اور ایک عالم کی حیثیت سے آپ ﷺ کے حکم پر مدینہ گئے۔بنو خزرج میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا جبکہ بنو اوس میں اسلام قبول کرنے والے افراد کی تعداد بہت کم تھی۔ یہاں تک کہ ایک سال کے اندر اندر مدینہ کا کوئی گھر ایسا نہ تھا کہ جس میں کم از کم ایک شخص مسلمان نہ ہو گیا ہو۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ اپنے میزبان حضرت اسعد بن زرارۃ کے ساتھ تھے اور چلتے چلتے وہ لوگ بنو خزرج کے علاقے سے نکل کر بنو اوس کے علاقے میں داخل ہو گئے۔قبیلہ بنو اوس کے سرداران میں سے اُسید بن حضیر اور سعد بن معاذ وہیں موجود تھے۔سعد بن معاذ نے اُسید بن حضیر کو کہا کہ میں چاہتا ہوں تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان کو کہو کہ ہم نہیں چاہتے کہ یہ لوگ یہاں گھومیں۔اسعد بن زرازۃ میرے رشتہ دار نہ ہوتے تو یہ کام میں خود کرتا۔اُسید بن حضیر نے اپنا نیزہ اٹھایا  اور مصعب بن عمیر کی طرف چل پڑے۔ اسعد بن زرارۃ نے جب اُسید کو آتے دیکھا تو مصعب بن عمیر کو کہنے لگے کہ یہ شخص اپنے قبیلے کا سردار ہے اس سے مناسب بات کرنا کیونکہ اگر یہ مسلمان ہو گیا تو بہت سے لوگ اسلام قبول کریں گے۔اُسید نیزہ اٹھائے آئے اور بہت ہی تند و تیز لہجے میں مصعب بن عمیر سے کہا کہ ہم لوگ نہیں چاہتے کہ تم ایسے یہاں گھومو اور لوگوں کو گمراہ کرواگر تمہیں اپنی زندگی عزیز ہے تو یہاں سے چلے جاؤ۔حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ نے جواب دیا کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ آرام سے بیٹھ کر میری بات سُن لیں، اگر آپکو اچھا لگے تو اسلام قبول کر لیں اگر نہیں تو انکار کر دیں۔

اُسید بن حضیر نے جواب دیا، بہت بہتر اور وہ بیٹھ گئے، حضرت مصعب بن عمیر نے قرآن پڑھ کر سنایا اسلام کی دعوت دی اسلام کے بارے میں بتایا۔ حضرت اسعد بن زرارۃ  کہتے ہیں کہ اُسید کے ایک لفظ بولے بغیر ان کے چہرے سے ہم نے اس ساری بات کے اثر کا اندازہ کر لیا تھا جو مصعب بن عمیر ان سے کر رہے تھے۔ حضرت مصعب بن عمیر نے بات ختم کی تو اُسید بن حضیر گویا ہوئے، وہ بولے، اسلام قبول کرنے کے لئے مجھے کیا کرنا ہوگا؟ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ نے ان کو غسل کر کے پاکی حاصل کرنے کا کہا اور اس کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا۔حضرت اُسید بن حضیر نے کہا کہ اب میں ایک شخص کو تم لوگوں کی طرف بھیجوں گا، اگر اس نے اسلام قبول کر لیا تو اس کے قبیلے کے تمام لوگ اسلام قبول کر لیں گے۔اُسید بن حضیر رضی اللہ چلتے ہوئے حضرت سعد بن معاذ کی طرف گئے ، سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ جب میں نے اُسید کو آتے دیکھا تو میں سمجھ گیا تھا کہ یہ وہ اُسید ہیں ہی نہیں جن کو میں نے مصعب بن عمیر کی طرف بھیجا تھا۔ چونکہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ کے میزبان اسعد بن زرارۃ ، سعد بن معاذ کے رشتے دار تھے اس لئے اُسید نے جا کر سعد سے کہا کہ میں نے ان لوگوں سے بات کی وہ کہتے ہیں کچھ لوگ آرہے ہیں جو  اسعد بن زرارۃ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ سعد بن معاذ نے یہ سنا تھا کہ ان کے دل میں وہی قبائلی محبت جاگ گئی، ان کو پھر نہ مصعب بن عمیر یاد رہے نہ اسلام یاد رہا انہوں نے نیزہ سنبھالا اور اسعد بن زرارۃ کی طرف چل پڑے لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ قبیلے کے لوگ تو اسی طرح اطمینان سے اپنے کام کاج میں مصروف ہیں۔ سعد بن معاذ سمجھ گئے کہ اُسید بن حضیر میرے ساتھ ہاتھ کر گئے ہیں۔

سعد بن معاذ چلتے ہوئے  اسعد کے پاس گئے اور وہاں ان کی نظر مصعب بن عمیر پر پڑی ان کو دیکھ کر اسی طرح  تیند لہجے میں بات کی جیسے کچھ دیر قبل اُسید بن حضیر نے کی تھی، کہنے لگے کہ تم لوگ یہ کیا کر رہے ہو کہ لوگوں کو گمراہ کرتے پھر رہے ہو؟ مصعب بن عمیر نے دھیمے لہجے میں جواب دیا کہ آپ ایک عقلمند انسان ہیں کیوں نہ ہم بیٹھ کر بات کریں؟ آپ کو اگر اسلام پسند آئے تو قبول کر لیں ورنہ ہم یہیں سے واپس چلے جائیں گے۔ سعد بن معاذ مان گئے اور مصعب بن عمیر نے ان کو اسلام کے بارے میں بتانا شروع کیا اور قرآن سنایا اور بات ختم ہونے تک سعد بن معاذ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اسلام قبول کرتے۔اسلام قبول کر کے سعد بن معاذ اپنے قبیلے کے لوگوں کے پاس گئے ان کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور کہا کہ تم لوگوں کے نزدیک میں کیسا انسان ہوں؟ سب نے جواب دیا کہ آپ ہمارے سردار ہیں اور ہم سب میں سب سے زیادہ معزز اور  عاقل ہیں۔ سعد بن معاذ رضی اللہ نے جواب دیا کہ واللہ! جب تک تم میں سے ایک ایک مرد اور عورت اسلام قبول نہیں کر لیتے اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لے آتے تم میں سے کوئی مجھ سے بات تک نہیں کر سکتا۔روایات میں آتا ہے کہ اس دن ، شام ہونے تک بنو اوس کا پورا قبیلہ، ایک ایک گھر اسلام قبول کر چکا تھا۔حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ کے بارے میں متعدد احادیث موجود ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ان کی زندگی میں اور وفات کے بار بارہا ان کی تعریف فرمائی۔ ایک روایت کے مطابق، حضرت سعد بن معاذ کی وفات کے وقت اللہ کا عرش خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔

اگلے حج کے موقع پر مدینہ سے تقریباً 70 افراد مکہ آئے اور عقبہ کے مقام پر یہ دوسری بیعت تھی جو مدینہ میں اسلام کا سورج طلوع ہونے کے بعد پیش آئی۔ اس بیعت کو بیعتِ عقبہ ثانی کہا جاتا ہے۔اس بیعت کے وقت ایک ایک دو دو کر کے مسلمان خفیہ طور پر عقبہ پہنچے۔ ان 70 مسلمانوں کی اس بیعت میں صرف ایک غیر مسلم شخص تھے اور وہ تھے عباس بن عبد المطلب اور سب سے پہلے وہی گویا ہوئے۔انہوں نے کہا:۔

"محمد ﷺ کا مکہ میں ایک مقام ہے جس کے بارے میں آپ سب لوگ جانتے ہیں،ہم ان کو اُن لوگوں سے محفوظ رکھتے ہیں جو ان کے بارے میں غلط سوچتے ہیں، ان کے اپنے شہر مکہ میں لوگ ان کی عزت کرتے ہیں اور یہ یہاں محفوظ ہیں لیکن آپ لوگوں نے ان کو یثرب آنے کی دعوت دی ہے اور یہ وہاں جانا چاہتے ہیں  کیونکہ آپ لوگوں نے ان کو وہاں آنے کی دعوت دی ہے، اگر آپ لوگ آپس میں باہمی اعتماد پیدا کر سکتے ہیں اور اس ذمہ داری کو اٹھا سکتے ہیں تو یہ سب آپ لوگوں پر منحصر ہے۔ لیکن، اگر آپ  کو ڈر ہے کہ محمد ﷺ کو تنہا چھوڑ دیں گے یا ان کو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دیں گے تو ان کو ابھی اور اسی وقت یہیں چھوڑ جائیں کیونکہ یہاں ان کے اپنے شہر میں ان کی عزت اور ان کی حفاظت ہم خود کر سکتے ہیں۔”

انصارِ مدینہ نے جواب دیا کہ ہم نے وہ سب سُنا جو آپنے کہا، اے اللہ کی رسول ﷺ آپ ہمیں بتائیں آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا:

"میں چاہتا ہوں کہ اس بات پر عہد کیا جائے کہ آپ لوگ  میرا دفاع کریں گے جیسے اپنے گھر ، بچوں اور عورتوں کا کرتے ہو، اس بات پر عہد کریں کہ امن اور جنگ دونوں صورتوں میں عمل کیا جائے گا، بُرائی کو روکا جائے گا اچھائی کو پھیلایا جائے گا، اللہ کے لئے سب کچھ کیا جائے گا اور یہ کرتے ہوئے سوائے اللہ کے کسی دوسرے کا ڈر نہ ہوگا۔ "

انصار میں سے براء  بن مراء کھڑے ہوئے ، آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اور کہا،  یا رسول اللہ ﷺ ہم نسلوں نے باپ اور اس کے بعد بیٹا  جنگجو ہیں، اسی دوران ابو الہیثم کھڑے اور ہوئے اور براء بن مراء کو ٹوک کر کہنے لگے: یا رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کا دوسرے لوگوں (یہودیوں) کے ساتھ بھی معاہدہ ہے  ، اگر ہم یہ معاہدہ توڑتے ہیں تو ہمیں ڈر ہے کہ جب اللہ آپکو فتح دے گا تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنوں میں واپس آجائیں گے، یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ہمیں چھوڑ جائیں گے یا آپ ﷺ ہمارے ساتھ رہیں گے؟ آپ ﷺ نے یہ سنا تو مُسکرا ئے اور فرمایا اگر تمہارے خون مانگا جائے گا تو میرا خون بھی مانگا جائے گا، تمہیں نقصان پہنچایا جائے گا تو  اس کا مطلب ہمیں نقصان پہنچایا جائے گا میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو، جو تم سے جنگ کرے گا میں اس سے جنگ کروں گا اور جس سے تم معاہدہ امن کرو گے اس سے میں معاہدہ امن کروں گا۔

انصار نے سُنا تو دوسرا سوال کیا، یا رسول اللہ ﷺ ہم آپکا دفاع کریں گے بے شک ہماری جانیں اور مال  ہی اس میں کیوں نہ کام آجائیں۔ لیکن یا رسول اللہ ﷺ ہمیں بدلے میں کیا ملے گا؟

رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: "جنت”

انصار نے یہ سُن کر جواب دیا” کیا ہی نفع والا کام ہے، ہم اس سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے”

یہ وہ واقعات تھے جنہوں نے اس عالمگیر مذہب کی بنیاد اتنی مضبوط کی کہ پھر دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں تنکوں کا انبار ثابت ہوئیں۔ اسلام کی شمع یثرب کے ایک ایسے شہر سے روشن ہوئی جہاں ایک ہی باپ کی اولاد سے دو قبائل رہتے ہیں اور جو ایک صدی سے آپس میں اس قدر لڑتے تھے کہ کسی بیرونی طاقت نے ان کی طرف توجہ ہی نہیں دی کہ جو آپس میں ہی خون بہاتے ہیں ان کو کیسے توڑنا کہ وہ تو خود ٹوٹے ہوئے ہیں۔ خزرج نے اسلام خود رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر کے قبول کیا جبکہ قبیلہ اوس کے لئے قبولِ اسلام حضرت سعد بن معاذ کے اسلام قبول کرنے کے بعد کا واقعہ بنا۔یہاں سے ہجرت کی تیاریاں  شروع ہوئیں اور نبوت کے تیرھویں برس یثرب کی گلیوں میں "طلع البدر علینا” کی صدائیں گونج رہی تھیں۔

Comments