اندلس میں آخری اسلامی حصار – غرناطہ

711ء میں جزیرہ نما آئبیریا میں لدریق کی ظلم و جبر سے بھری سلطنت کو ختم کرنے کے لئے جب مسلمانوں کو پکارا گیا تو اموی خلیفہ نے طارق بن زیاد کو ایک لشکر دے کر بھیجا جو جبلِ طارق (موجودہ جبرالٹر) کے مقام پر لنگر انداز ہوا۔ تقریبا! سات برس کا عرصہ لگا اور موجودہ اسپین اور پرتگال کا سارا علاقہ اسلامی حکومت کا حصہ بن چکا تھا اور یہ حکومت اگلے سات سو پرس سے زیادہ عرصے تک قائم رہنے والی تھی۔سات برس کی فتوحات، سات سو برس کی ایسی عظیم الشان سلطنت میں تبدیل ہونے والی تھی کہ ایک اعداد و شمار کے مطابق، آج تقریباً چھ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی موجودہ اسپین کے باسیوں میں سے 55 فیصد تک کے خون میں ہسپانیہ کے مسلمانوں کا لہو موجود ہے۔

نویں صدی کے وسط تک اندلس میں اسلامی سلطنت اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی، وہاں پچاس لاکھ سے زائد مسلمان رہائش پذیر تھے جو کہ اس وقت کی کُل آبادی کا اسّی فیصد بنتے ہیں۔ اندلس اموی خلیفہ کے تحت حکومت کرتا تھا اور اپنے عروج کے دور میں یورپ یا سب سے ترقی یافتہ ختہ کہلاتا تھا لیکن کوئی بھی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں ہوتی، خلافت کا یہ اتفاق ٹوٹ گیا اور دسویں صدی تک وہ مسلمان جو ایک خلیفہ کے علم تلے اتفاق سے رہا کرتے تھے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور یوں نصاریٰ کو ایک موقع مل گیا کہ اس نفاق سے فائدہ اٹھا سکیں۔اگلی دو صدیوں میں خلافت  صرف ٹوٹ کر چھوٹی چھوٹی مملکتوں میں تقسیم ہوئی بلکہ بارہویں صدی تک عیسائیوں کے ہاتھوں ایک ایک کر کے گرتی بھی چلی گئی۔آخر میں صرف ایک ہی مملکت باقی بچی، وہ تھا اندلس میں آخری اسلامی حصار، غرناطہ۔

استرداد کی یہ مہمیں شمال سے شروع ہوئیں اور ایک ایک کر کے اندلس کے اہم شہر جیسے قرطبہ، اشبیلہ اور طلیطلہ دسویں صدی سے بارہویں صدی تک صلیبی افواج کے ہاتھوں فتح ہو چکے تھے۔شمالی افریقہ سے اٹھنی والی المرابطون اور الواحدون جیسی تحریکوں نے گو کہ ان فتوحات کی رفتار کو سست کرنے کی کوشش کی لیکن مسلمانوں کے آپسی انتشار نے ان کو اس قدر نقصان پہنچایا کہ ہاتھ سے جاتی اندلس کی یہ سلطنت نہ بچ سکی۔1236 میں قرطبہ کے گرنے کے وقت غرناطہ عیسائیت کے ان حملوں سے بچ گیا۔وہ کیسے بچا؟ ایسے کہ غرناطہ کی سلطنت کا قشتالہ کی سلطنت سے ایک معاہدہ ہوا کہ غرناطہ کو ایک خود مختار سلطنت رہنے دیا جائے جس کے بدلے وہ سالانہ رقم ادا کریں گے۔ غرناطہ کے لئے یہ ایک مشکل وقت تھا کہ وہ اپنے دشمن کو خود اپنے ہاتھ سے کھِلا رہے تھے۔

ڈھائی صدی تک غرناطہ، قشتالہ کی حکومت کے ماتحت رہا جبکہ وہ چاروں اطراف سے عیسائی حکومت کے ہاتھوں گھِرا ہوا تھا اور یہ خطرہ ہر وقت رہتا تھا کہ عیسائی کسی بھی وقت حملہ کر کے غرناطہ کی حکومت ختم کر دیں، چودہویں صدی میں غرطاہ کے ایک دانشور نے لکھا تھا "کیا غرناطہ ایک طرف سے ایک بپھرے ہوئے سمندر اور ایک طرف سے ایک خطرناک دشمن سے نہیں گھِرا ہوا، جبکہ دونوں دن رات اس کے لوگوں کو ڈرا رہے ہیں؟”

1469 میں اراغون کے فردینند اور قشتالہ کی ملکہ ازبیلہ کی شادی نے دو مضبوط عیسائی حکومتوں میں اتفاق پیدا کیا اور وہاں سے غرناطہ کی حکومت کے خلاف محرکات کا آگاز ہوا۔1482 میں امارتِ غرناطہ اور اسپین کی عیسائی حکومت کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ گو کہ غرناطہ ایک کمزور حکومت تھی لیکن پھر بھی جی جان سے لڑی ایک ہسپانوی مرخ لکھتا ہے "مسلمان جی اور جان سے لڑے ایسے کہ جیسے ایک شخص اپنے گھر، اپنی بیوی اور اپنے بچوں کے لئے لڑتا ہے”۔ غرناطہ کے ایک عام مسلمان شہری کا جذبہ وہاں کے فرمانروا سے کہیں زیادہ تھا کیونکہ وہاں کا ایک عام شہری اپنی بقا کے لئے لڑ رہا تھا اور اندلس میں اسلام کے لئے لڑ رہا تھا۔عیسائیوں کا ایک ہی مقصد تھا، اندلس میں موجود آخری اسلامی حصار کا مکمل خاتمہ اس لئے وہ متحد تھے، وہ نہیں ٹوٹے جبکہ غرناطہ میں مسلمانوں کا حال اس سے بھی بُرا تھا وہاں گورنر اور سلطان آپس میں لڑ رہے تھے کوئی کچھ کہہ رہا تھا تو کوئی کچھ اور سونے پر سہاگہ کہ کچھ آستین کے سانپ عیسائیوں سے مل کر اپنوں ہی کو ڈس رہے تھے اور بدلے میں ان کو کیا چاہئے تھا؟ پیسہ، زمین اور عہدہ۔ایک سال بیت چکا تھا اور غرناطہ فتح نہ ہو پایا تھا جب سلطان کے اپنے بیٹے، محمد نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کر کے غرناطہ میں خانہ جنگی شروع کر دی، یہ وہ نازک وقت تھا جب عیسائی غرناطہ کے باہر کھڑے اسے باہر سے کھوکھلا کر رہے تھے اور اندر سلطان کے اپنے صاحبزادے کا حال یہ تھا کہ بغاوت کر کے غرناطہ میں خانہ جنگی کی آگ بھڑکا دی۔ فردینند نے اس خانہ جنگی کا فادہ اٹھایا اور محمد کو اس بغاوت میں ہر طرح کی مدد دی، پیسہ اور ہتھیار مہیا کئے اور اس بات کا یقین دلایا کہ اس کی ہر ممکن مدد کی جائے گی جبکہ ساتھ ہی ساتھ باہر سے دباؤ بھی بڑھاتا چلا گیا، سلطان کا بیٹا اپنے باپ سے حکومت لینے میں کامیاب ہوگیا لیکن تب تک آس پاس کا سارا علاقہ عیسائی قبضے میں جا چکا تھا اور محمد (سلطان کے بیٹے) کے ہاتھ میں صرف اور صرف غرناطہ کا ایک شہر آیا اور کچھ نہیں۔

غرناطہ کی حکومت ابھی ہاتھ میں آئی ہی تھی کہ محمد کو فردینند کا خط موصول ہوا کہ وہ فوراً حکومت اس کے حوالے کر دے۔ یہ خط محمد کے لئے حیرانی  کا باعث بنا کیونکہ خانہ جنگی کے دوران فردینند نے وعدہ کیا تھا کہ وہ محمد کو غرناطہ پر حکومت کرنے دے گا لیکن اب دیر ہو چکی تھی، محمد کو اب جا کر علم ہوا کہ وہ اس جنگ میں صرف ایک مہرہ تھا اور کچھ نہیں۔ محمد نے مختلف اسلامی خلافتوں کو خط لکھے لیکن کہیں سے کوئی مدد نہ آئی سوائے خلافتِ عثمانیہ کے جہاں سے ایک بحری بیڑہ تو آیا لیکن وہ بھی عیسائی افواج کو کچھ خاص نقصان نہ پہنچا سکا۔1491ء میں محمد نے فردینند اور ازبیلہ سے معاہدہ کیا اور غرناطہ کی حکومت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گئی۔

2 جنوری 1492ء کی صبح تھی جب ہسپانوی فوج نے غرناطہ میں قدم رکھا۔غرناطہ کی حکومت اب عیسائیوں کے ہاتھ میں تھی، شہر میں داخل ہوتے ہی الحمرہ پر قبضہ کیا گیا اور اس کی دیواروں کو عیسائیوں کے جھنڈے ٹانگے گئے۔الحمرہ کے سب سے اونچے مینار پر صلیب نصب کی گئی یہ بتانے کے لئے کہ غرناطہ میں اب اسلام نہیں عیسائی حکومت قائم ہے اور عیسائیوں نے مسلمانوں کے آخری اسلامی حصار کو بھی فتح کر لیا ہے۔آج کے دن غرناطہ کی سڑکیں خالی تھیں، کوئی گھر سے نہیں نکلا سوائے ایک شخص کے اور وہ تھا سلطان محمد، معاہدے کی رُو سے سلطان محمد کو غرناطہ سےجلا وطن ہونا تھا۔غرناطہ سے جاتے ہوئے ایک پہاڑی پر کھڑے ہو کر اس نے پیچھے پڑ کر غرناطہ کو آخری بار دیکھا اور بلک بلک کر رو پڑا، اس کی والدہ اس کے ساتھ تھیں اور اس کے اچانک ایسے رونے پر انہوں نے کسی قسم کے جذبات کا اظہار نہیں کیا اور کہا "اس چیز کے کھونے پر اب عورتوں کی طرح مت رو جس کے دفاع میں تم مردوں کی طرح لڑ نہیں سکے”۔

معاہدے میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی دینے کا عودہ کیا گیا تھا لیکن یہ وعدہ جلد ہی توڑا گیا، 1502ء میں اسلام کو باقاعدہ طور پر غیر قانونی قرار دے دیا گیا، وہاں کے مسلمانوں کو یا تو شمالی افریقہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا یا پھر انہوں نے اپنا اسلام چھپانا شروع کر دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سوہلویں صدی کے اوائل تک پورے سپین میں ایک بھی مسلمان باقی نہ بچا۔

711ء میں اندلس کی ابتداء ہوئی، سات برس لگے اسلام کو اندلس میں رچنے بسنے میں، دو صدیاں لگیں اس یورپ کو تعمیر ہونے میں جو دنیا کا طاقتور اور ترقی یافتہ ترین ختہ بنا۔ سات سو برس تک اسلام نے اس ختے میں حکومت کی اور اس کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سلطنت کو گرنے میں دو سے تین صدیاں لگ گئیں پھر غرناطہ کی شکل میں موجود آخری اسلامی حصار بھی گر گیا۔

 

Comments