رسول اللہ ﷺ کا خط اور ہرقل کا ابوسفیان سے مکالمہ

621ء میں ہرقل روم سے نکل کر یروشلم اور دمشق کو واپس فتح کر چکا تھا اور نہ صرف اس نے فارسی حکومت سے اپنے چھینے ہوئے علاقے واپس لئے تھے فارسی سلطنت کے بھی بیشتر شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب رسول اللہ ﷺ نے دحية الكلبى (یہ وہی مشہور صحابی ہیں جن کی شکل میں ایک بار حضرت جبرائیل انسانی روپ میں مسجدِ نبویﷺ آئے تھے)‎ کو خط دیکر رومی شہنشاہ ہرقل کے دربار میں بھیجا۔ہرقل کو خط ملا تو اس نے اپنے ایک افسر کو بلا کر کہا مجھے اس شخص کے علاقے کا کوئی بندہ چاہئے بے شک تمہیں شام کو اوپر سے نیچے کرنا پڑ جائے۔

اس افسر کو کوئی اور نہیں بلکہ ابو سفیان اور ان کے ساتھ تاجر ملے جنہیں لیکر وہ ہرقل کے دربار میں پہنچ گئے۔ہرقل نے ابو سفیان کے ساتھیوں کو ان کے پیچھے کھڑا کیا اور کہا کہ اگر یہ شخص جھوٹ بولے تو مجھے اشارہ کر دینا۔ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں جانتا تھا کہ میں جھوٹ بھی کہوں تو میرے ساتھی مجھے دھوکا نہیں دیں گے لیکن جھوٹ سے مجھے شرم آتی تھی۔ ہرقل اور ابو سفیان کے درمیان جو مکالمہ ہوا وہ اس طرح تھا:

ہرقل: محمد ﷺ کون ہے۔

ابوسفیان: وہ ایک کاہن ہے اور ایک جھوٹا شخص ہے (نعوذ باللہ)

ہرقل: مجھے اس کے بارے میں بُرا بھلا سننے سے غرض نہیں، مجھے صرف اس کے بارے میں بتاؤ۔ اس کا تعلق کس خاندان سے ہے؟

ابوسفیان: اس کا تعلق عرب کے ایک ممتاز قبیلے سے ہے۔

ہرقل: اس کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ تھا؟

ابوسفیان: نہیں۔

ہرقل: کیا اس سے پہلے تمہارے لوگوں میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا؟

ابوسفیان: نہیں

ہرقل: اس کے پیروکاروں کا تعلق امراء سے ہے یا وہ لوگ غریب ہیں؟

ابوسفیان: وہ سب غریب ہیں

ہرقل: ان کی تعداد کم ہو رہی ہے یا بڑھ رہی ہے؟

ابوسفیان: ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

ہرقل: کیا اس کے لائے ہوئے دین کو قبول کرنے کے بعد کوئی واپس ہوا؟

ابوسفیان: نہیں

ہرقل: کیا نبوت کے دعوے سے پہلے اسے کبھی جھوٹ بولتے پایا گیا؟

ابوسفیان: نہیں

ہرقل: کیا اس نے کبھی امانت میں خیانت کی؟

ابوسفیان: نہیں، لیکن ہمارا اس سے امن کا معاہدہ چل رہا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ وہ اس دوران کیا کرے گا۔ (ابوسفیان کہتے ہیں کہ ایک واحد چیز تھی جس کے بارے میں کچھ محمد ﷺ کے خلاف بول سکا۔)

ہرقل: کیا کبھی تم نے اس سے جنگ کی ہے؟

ابوسفیان: ہاں

ہرقل: جنگ کا کیا نتیجہ رہا؟

ابوسفیان: کبھی وہ جیت گیا اور کبھی ہم جیت گئے۔

ہرقل: وہ تمہیں کس قسم کے حکم دیتا ہے؟

ابوسفیان: وہ کہتا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، شرک نہ کرو، زنا نہ کرو، سچ بولو اور اپنے ساتھ والوں سے اخلاق سے پیش آؤ۔

ہرقل: تم نے کہا کہ اس کا تعلق عرب کے ایک ممتاز گھرانے سے ہے، تمام پیغمبروں کا تعلق اہنے وقت کے ممتاز خاندان سے تھا، تم نے کہا کہ اس سے پہلے کسی نے بھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا میں نہیں سمجھتا کہ وہ کسی کو دیکھ کر ایسا کر رہا ہے، تم نے کہا کہ اس کے آباء میں کوئی بھی بادشاہ نہیں تھا جس کا مطلب ہے کہ اسے حکومت کا لالچ بھی نہیں، تم نے کہا کہ نبوت سے پہلے اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور میں کہتا ہوں کہ وہ اللہ پر جھوٹ نہیں بول سکتا۔ تم نے کہا کہ اس کے پیروکار زیادہ تر غریب ہیں اور یہی بات پہلے آنے والے سارے انبیاء کے ساتھ رہی ہے کہ ان کے ماننے والے غریب ہی تھے۔یہ بات کہ اس کے پروکاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے اس بات کی نشانی ہے کہ وہ درست راہ پر ہے اور ابھی تک یہ دین مکمل نہیں ہوا۔ تم نے کہا کہ اس کا لایا ہوا دین قبول کرنے کے بعد کوئی واپس نہیں پھرتا، یہ اس ایمان کی نشانی ہے جس کی روشنی لوگوں کے دلوں میں چکمتی ہے۔تم نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ وہ ایک خیانتی شخص ہے اور اللہ کا کوئی بھی نبی خیانتی نہیں ہوتا۔تم نے یہ بھی کہا کہ وہ شرک سے روکتا ہے، اللہ کی طرف بُلاتا ہے، اچھے اخلاق سکھاتا ہے، زنا سے روکتا ہے، اگر جو کچھ تم نے کہا وہ سچ ہے تو اس کی حکومت اس جگہ تک آئے گی جہاں آج میں کھڑا ہوں۔ میں جانتا تھا کہ ایک نبی آنے والا ہے لیکن وہ تم لوگوں میں سے ہوگا میں نے یہ نہیں سوچا تھا۔میرے بس میں ہوتا تو میں جا کر اس سے ملتا اور اس کے پاؤں دھوتا۔اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کا خط لایا گیا اور پڑھا گیا:

محمد ﷺ کی طرف سے جو اللہ کا نبی ہے۔ روم کے شہنشاہ ہرقل کے نام۔

جس نے ہدایت کی پیروی کی وہ امن میں رہا۔میں تمہیں اسلام کی ترغیب دیتا ہوں، اسلام قبول کر لو تو تم محفوظ ہو، اللہ تمہیں اس کا دُگنا اجر دے گا۔اگر تم انکار کرتے ہو تو اپنی رعایا کی ذمہداری تمہارے اوپر ہے۔

ابوسفیان کہتے ہیں کہ میں دیکھا کہ پسینہ ہرقل کی پیشانی سے گر رہا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ یہی سچ اور حق ہے لیکن لوگوں کی نفرت کی وجہ سے اسلام سے دور رہا۔

Comments