ثقبِ اسود / بلیک ہولز، کیا، کیسے کہاں؟

حرفِ اول:

پہلی بات تو یہ کہ ہمیں سائنس کے بارے کچھ علم نہیں، تھوڑا بہت بھی نہیں، اس لئے فیصلہ یہ ہوا ہے کہ مولوی لینکس اپنے  مصروف وقت سے تھوڑا سا مزید مصروف وقت نکال کے ہمارا یہ مضمون پڑھنے کے گناہ کے مرتکب ہوں اور ہمیں بتائیں کہ یہ ٹھیک ٹھاک ہے یا نہیں کیونکہ سائنس خاص کر طبیعات سے ہمارا رشتہ واجبی سا ہی ہے۔غلطی کے امکانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اگر کچھ غلطیاں ملیں تو ہمیں ضرور آگاہ کریں آپکو کچھ نہیں کہا جائے گا اس بارے ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں۔

بلیک ہولز کیا ہوتے ہیں:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔۔۔۔۔

بلیک ہولز جسے اردو میں ثقبِ اسود کہتے ہیں، ثقب سے مراد ایسی چیز جس میں چھید یا سراخ ہو اور اسود سے مراد  کالا ہے اسی لئے انگریزی میں اس کو BLACK HOLE کہا جاتا ہے۔بلیک  ہولز یا ثقب اسود  مادے  مادے کی ایک بے پناہ کثیف حالت ہے جس میں کششِ ثقل اس قدر تیز ہوتی ہے کہ کوئی بھی شے اس سے بچ کر نہیں جا سکتی۔ ثقبِ اسود کی کشش ثقل سے نکلنے کے لئے جس رفتار  ESCAPE VELOCITY کی ضرورت ہوتی ہے وہ روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ ہونی چاہئے اور چونکہ فی الوقت روشنی سے تیز رفتار کوئی چیز نہیں اس لئے بلیک ہولز / ثقبِ اسود سے نکلنا نا ممکن ہے۔ ثقبِ اسود کی کشش ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ اس  کے افق  وقیعہ EVENT HORIZON  میں جو چیز ایک بار داخل ہو گئی پھر وہ وہاں سے نہیں نکل سکتی، چاہے وہ روشنی ہی کیوں نہ ہو۔

ثقبِ اسود  کو دیکھا نہیں جا سکتا، گو کہ اس کا نام ایسے ہے جیسے کوئی ایسی چیز جو کالی چھید دار ہو لیکن در اصل یہ خلا میں مادے کی کثافت کی وہ جگہ ہے جہاں کشش ثقل اپنی طاقتور ترین حالت میں موجود ہو، اور چونکہ  بلیک ہولز سے روشنی بھی فرار نہیں ہو سکتی  اس لئے ان کو ڈھونڈنا یا دیکھنا ممکن نہیں۔بلیک ہول کا مشاہدہ ایک ہی طریقہ پر کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے بلیک ہول کے آس پاس موجود سیاروں یا ستاروں پر ان کے اثرات۔ جب ایک ستارہ لاکھوں کروڑوں کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ایک نا معلوم چیز کے گرد گردش کر رہا ہو تو بتایا جا سکتا ہے کہ وہاں ایک بلیک ہول موجود ہوگا۔ موجودہ دور میں  ایکس رے اشاعتی مشاہدات کے ذریعے بلیک ہولز کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔عام الفاظ میں ایکس رے کا استعمال کر کے ان کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔

بلیک ہولز / ثقبِ اسود کیسے وجود میں آتے ہیں؟

زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہورِ ترتیب

موت کیا ہے؟ انہی اجزاء کا پریشاں ہونا

مادہ چاہے وہ مٹھی بھر ہو یا ایک سیارہ ہو، مختلف اجزاء  جیسے ثقل، برقناطیسیت  وغیرہ کی وجہ سے ایک مستحکم  حالت میں قائم رہتا ہے۔ ایسے ہی مادہ جب کثافت کی ایک خطرناک حد تک پہنچتا ہے  تو اس مادے میں موجود قوتیں کشش ثقل کے سامنے بے بس ہو جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں کوئی بھی مادی جسم بے شک وہ سیارہ ہی کیوں نہ ہو خود اپنے اندر سمٹ جاتا ہے یا منہدم ہو جاتا ہے، ایسی حالت میں مادہ  خود اپنے اندر سمٹ کر اپنی اونچائی اور چوڑائی کھو دیتا ہے  اور صفر ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس حالت کو وحدانیت SINGULARITY کہتے ہیں۔ یہاں بلیک ہولز وجود میں آتے ہیں۔

 نجمی ثقبِ اسود STELLER BLACK HOLES تب وجود میں آتے ہیں جب کسی سیارے کا  قلب توانائی  بنانا بند کر دیتا ہے تو کششِ ثقل    قلب کو منہدم کر دیتی ہے، سیارے کی بیرونی تہیں تباہ ہو کر یا تو خلا میں بکھر جاتی ہیں یا پھر اس عمل کے نتیجے میں وجود میں آنے والے بلیک ہول کے اندر ہی شامل ہو جاتی ہیں تا کہ اس کو مزید طاقتور بنا سکیں۔

ثقبِ اسود / بلیک ہولز کی فی الوقت تین اقسام ہیں جس میں  نجمی ثقبِ اسود STELLER BLACK HOLES جن کی کمیت   ہمارے کئی سورج کے برابر ہو سکتی ہے، سئپعر ماسو بلیک ہولز SUPPER MASSIVE BLACK HOLES جن کی کمیت ہمارے کروڑوں یا اربوں سورج کے برابر ہو سکتی ہے اور معمولی ثقبِ اسود MINIATURE BLACK HOLES جن کی کمیت ہمارے ایک ہی سورج کے برابر ہو سکتی ہے۔

بلیک ہولز / ثقبِ اسود کے بارے میں چند حقائق:

  1. اب تک معلوم بلیک ہولز میں سے چار مشہور ترین بلیک ہولز کا مختصر تعارف، ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے (انگریزی کے استعمال کے لئے معذرت)
  • CYGNUS X-1 یہ نجمی ثقبِ اسود ہے اور ایکس رے مشاہدات کے مطابق یہ ہم سے کوئی 6500 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔
  • SAGITTARIUS A* مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ایک SUPER MASSIVE BLACK HOLE ہے جس کی کمیت تقریباً ہمارے چالیس لاکھ سورج کے برابر اور یہ ہماری اپنی کہکشاں یعنی MILKY WAY کے عین بیچوں بیچ موجود ہے۔ اس کے فاصلے کا ہمیں درست علم نہیں لیکن سائس دانوں کے مطابق یہ ثقبِ اسود  آٹھ ہزار سے بیس ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے اس لئے ہمیں اس سے کوئی خطرہ نہیں کہ یہ ہمیں کھا جائے گا۔
  • M87 یہ ثقبِ اسود  ایک  دور پرے (تقریباً 5000 نوری برس دور) کی کہکشاں میں موجود ہے، اس کی کمیت ساڑھے ارب سورجوں کے برابر مانی  جاتی ہے۔
  • CENTAURUS A یہ بھی ایک SUPER MASSIVE BLACK HOLE ہے اور دس لاکھ نوری برس دور ایک کہکشاں کے درمیاں میں موجود ہے اس کی کمیت ساڑھے پانچ کروڑ سورجوں کے برابر مانی جاتی ہے۔
  1. جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ثقبِ اسود میں کشش ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ کوئی بھی مادہ چاہے وہ روشنی ہی کیوں نہ ہو وہاں سے فرار حاصل نہیں کر سکتی، یہی کشش ثقل وقت میں بگاڑ کا سبب بنتی ہے، جیسے جیسے آپ کسی ثقبِ اسود کی جانب آگے بڑھتے جائیں گے وقت سست سے سست تر ہوتا چلا جائے گا۔
  2. ثقبِ اسود کے گرد گھومتی گیس، مادے اور سیارے اس کی ڈِسک ACCRETION DISK کے اندر رہتے ہیں، وہ علاقہ جہاں سے واپسی ممکن نہیں POINT OF NO RETURN اسے ڈِسک کے آگے ہے جسے افقِ وقیعہ کہا جاتا ہے، اس افق سے آگے کچھ بھی جائے خواہ وہ روشنی ہی ہو وہ واپس نہیں آسکتا ہے۔ اگر آپ کسی بلیک ہول کے سامنے کھڑے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں تو اس افق سے دور رہ کر کرنا ممکن ہے کیونکہ زیادہ محبت خاص کر اس ثقبِ اسود کے ساتھ آپکو مہنگی پڑ سکتی ہے۔
  3. عام خیال کے بر عکس بلیک ہولز کسی قسم کی کوئی تابکاری شعائیں خارج نہیں کرتے، جیسا کہ پہلے آیا ہے کہ بلیک ہولز کو دیکھنا ممکن نہیں، بلیک ہولز کے گرد گھومتے، چکر لگاتے سیاروں پر اس کی کشش ثقل کے اثرات سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خلا کے اس حصے میں کوئی بلیک ہول موجود ہو سکتا ہے۔ اگرچہ بلیک ہول تابکاری خارج نہیں کرتا لیکن اس کے گرد تیزی سے گھومتا مادہ آپس میں ٹکراؤ وغیرہ کے نتیجے میں تابکاری خارج کر سکتا ہے۔
  4. بعض خیالات کے مطابق بلیک ہولز / ثقبِ اسود  ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا ایک ایسا راستہ ہے جس کے ذریعے بہت بڑا فاصلہ (نوری سالوں پر محیط) بہت کم وقت میں طے کیا جا سکتا ہے  جسے انگریزی میں WORMHOLE  کہا جاتا ہے۔
  5. خیال کیا جاتا ہے کہ بلیک ہول کے قریب اگر کوئی انسان گیا تو اس کے پرخچے اڑ جائیں گے لیکن وہاں موجود کشش ثقل انسان کو ایک ربڑ کی طرح کھینچ کر لمبا کر سکتی ہے اور اس کے بعد۔۔۔۔ ظاہر ہے موت ہے۔
  6. اور آخری یہ کہ بلیک ہول / ثقبِ اسود کے اندر ہماری طبیعات کے تمام قوانین دم توڑ جاتے ہیں۔

ذیل میں سائنس دانوں اور طبعیات دانوں  کی بنائی کچھ تصاویر موجود ہیں جو   ثقبِ اسود / بلیک ہولز  کو سمجھنے میں مدد دیں گی۔

پی ایس: مولوی نے پیغام کا جواب نہیں دیا اس لئے ہم چھاپنے میں حق بجانب ہیں۔ مولوی یہیں پڑھ لے۔۔۔

[mks_separator style=”double” height=”2″]

 

Comments