کیا ہم محفوظ ہیں؟

زیرِ نظر تصویر ایک کمپیوٹر گیم "واچ ڈاگز” Watch Dogs سے لی گئی ہے جو کہ گزشتہ دنوں کھیلنے کا اتفاق ہوا اور ابھی تک یہ اتفاق چل ہی رہا ہے۔اس گیم میں امریکہ کے شہر شکاگو کو دکھایا گیا ہے اور اس کا تانے بانے جا کر 2003 میں ہوئے ایک واقعہ سے ملتے ہیں جب ایک سافٹ ویئر کی خرابی کی وجہ سے کم از کم ایک دن اور زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے تک  امریکہ کے کئی مقامات میں بجلی منقطع رہی تھی (یہ ایک سچا واقعہ ہے)۔ اسی کو بنیاد بناتے ہوئے اس گیم کی کہانی آگے بڑھتی ہے اور اس سافٹ ویئر کی خرابی کو "ہیکنگ” سے تشبیح دیکر شکاگو شہر کا سارا انتظامی کنٹرول ایک نئے سافٹ ویئر  جسے "سی ٹی او ایس” ctOS”  یا سینٹرلائزڈ آپریٹنگ سسٹم کا نام دیا گیا ہے۔اس سافٹ ویئر میں شکاگو کے ہر شہری کی معلومات درج ہیں ساتھ ہی وہ آن لائن کیا کرتا ہے، اس کے بینک اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہیں، اس کی نوکری کہاں ہے، اس کی ماہانہ آمدنی کیا ہے، وہ انٹرنیٹ پر کیا سرچ کرتا اور کیا خریدا کرتا ہے سب کچھ اس سافٹ ویئر میں محفوظ ہوتا ہے۔ گیم جس کردار کے گرد گھومتی ہے  وہ ایک "گرے ہیٹ” Grey Hat ہیکر ہے جس نے کسی بیک ڈور یا وائرس کے ذریعے کے  اس سافٹ ویئر تک رسائی حاصل کر لی ہے اور اب وہ جب چاہتا ہے جس کے بارے چاہتا ہے معلومات اکٹھی کر لیتا ہے اور جان لیتا ہے کہ فلانا مطلوب شخص کہاں ہے، اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ شخص  اس سافٹ ویئر کو بُرے مقاصد  کے لئے استعمال نہیں کرتا ہے، اس کا پہلا مقصد اپنے خاندان کی حفاظت ہے  جس میں اس کی بہن اور اس کا بھانجا شامل ہیں اور دوسرا مقصد شہر میں ہوتے جرائم کی روک تھام ہے۔ یاد رہے کہ سافٹ بنانے والے یہ نہیں جانتے کہ ان کا سافٹ ویئر ہیک ہو چکا ہے اور کوئی وقتاً فوقتاً اس میں جھانکتا رہتا ہے۔گیم کی کچھ کچھ سمجھ آپکو اوپر دی گئی تصویر دیکھ کر ہو جائے گی جس میں کردار نے چار مختلف افراد کو ان کے موبائل فون کے ذریعے پہچانا اور ان کے بارے میں جانا ہے جیسا یہ  دائیں جانب سے پہلی تصویر میں  ایک شخص دکھایا گیا ہے جو تصاویر جمع کرتا ہے ساتھ ہی اس کی ماہانہ آمدنی بھی نظر آرہی ہے ، اسی طرح باقی تصاویر بھی ہیں۔

یہ ایک خاکہ تھا اس سب کو سمجھنے کے لئے جو بات آگے آنے والی ہے۔ ہم میں سے اکثر بلکہ بیشتر افراد ہی انٹرنیٹ پر ایک  ویب سائٹ استعمال کرتے ہیں جس کا نام فیس بُک ہے۔یہ ایک سماجی روابط کی ویب سائٹ ہے جس میں مختلف لوگوں کو اپنے دائرہ  احباب میں داخل کرتے ہیں (عام طور پر ایک جیسے خیالات والے افراد کو ہی اپنے دائرہ احباب میں شامل کیا جاتا ہے)۔ اس نیٹورک پر شمولیت اختیار کرتے وقت آپکو اپنا نام ، تاریخ پیدائش، ای میل / فون نمبر اور پاسورڈ دینا پڑتا ہے۔ یہ وہ عمومی معلومات ہیں جو عام طور پر  تقریباً ہر ویب سائیٹ پر ہی جاتی ہیں لیکن فیس بک پر چونکہ عزیز و اقارب، دوست، احباب سب ہی ہوتے ہیں تو خیال کیا جاتا ہے کہ وہی نام استعمال کیا جائے جو اصل زندگی میں ا ہے جس سے لوگ آپکو جانتے ہیں، ساتھ ہی اکاؤنٹ بنانے کے بعد آپ سے آپکی تصویر طلب کی جاتی ہے اور ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ تصویر ایسی ہونی چاہئے کہ دیکھتے ہی "تو پھر ہم رشتہ بکّا سمجھیں” کے الفاظ دماغ میں گونجنے لگیں۔تصویر دیدی تو اب پھر  لگے ہاتھ یہ بھی بتا دیں کہ آپنے اس دنیا میں آنے کے بعد سے لیکر اب تک کیا کیا کارنامے سر انجام دئیے ہیں یا پھر بقول ماں جی "دنیا میں بستر اور روٹاں توڑنے کے لئے آیا ہے” والا کام کرتے رہے ہیں؟ اپنے سکول سے شروع ہو جائیں اور ساتھ ساتھ ہمیں بتاتے جائیں کہ کب کس سال کے کس مہینے میں آپکے خاندان میں کون پیدا ہوا اور کون مرا، کس کالج میں آپنے بھونڈی کی اور کس یونیورسٹی کے کیفے میں آپ بیٹھ کر گپیں ہانکا کرتے تھے سب بتا دیں۔

ویسے تو عموماً اب بچے بھی فیس بک استعمال کر رہے ہیں اور بہت کم افراد ایسے ہیں جنہوں نے ساری عمر گزار کر فیس بک پر ایک اکاؤنٹ بنایا ہے کیونکہ بچھلے دنوں مونگ پھلی لیتے ہوئے ٹھیلے والے نے پوچھا تھا کہ بھائی صاحب یہ فیس بک پر اپنی تصویر کیسے لگاؤں؟ تو یہاں تک وہ وہ عمومی معلومات ہیں جن  کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے:-

موصوف کا نام  شاہد علی ہے، سیالکوٹ کے سرکاری سکول سے میٹرک کر کے وہیں کے سرکاری کالج سے ایف کیا اور پھر یونیورسٹی میں داخلے کے لئے لاہور کا رُخ کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کر کے وکیل بنے۔ آجکل لاہور اور سیالکوٹ کے بار کی ممبر شپ آپکے پاس ہے، اور گزشتہ برسوں میں لاہور سے سیالکوٹ اور سیالکوٹ سے لاہور کے  "چیک اِن” دیکھ کر اندازہ ہوا  ہے کہ مہینے میں دو بار شاہد صاحب اپنے گھر تشریف لاتے ہیں اور عام طور پر بلکہ بیشتر ہی جمعہ کی شام کے وقت گھر میں ماں کے ہاتھ کے بنے پراٹھے  کھاتے ہیں۔

مجھے کوئی انجان نمبر سے کال کرے اور کہے کہ جناب امجد اسلام امجد بات کر رہے ہیں تو ظاہر ہے میں کہوں گا کہ نہیں بھائی رانگ نمبر ہے لیکن اگر اگلا پوچھے کہ آپ کون بول رہے ہیں تو ہماری "پرائیویسی” پر ہتھوڑی لگ جاتی ہے اور ہم جواب دیتے ہیں ” آپکو اس سے کیا ہے میں جو کوئی ہوں کہا تو ہے کہ رانگ نمبر ہے” لیکن یہی کام ہم عرصہ دراز سے ایک بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا جیسی ویب سائیٹس پر کر رہے ہیں، ہم انہیں اپنا نام، اپنی ساری تاریخ، اپنی پسند ناپسند، اپنی نوکری، اپنی تعلیم، اپنا فون نمبر تک سب کچھ بنا پوچھے بتا دیتے ہیں، کوئی سوال نہیں، کوئی جواب نہیں، کوئی فائدہ بھی نہیں لیکن یہ حضور ہمارا کچہ چٹھا حاضر ہے کھول کر پڑھ لیں۔ صرف یہی نہیں، فیس بُک کی سمارٹ فون (اینڈرائڈ یا آئی فون) کی ایپلی کیشنز مسلسل  ہماری  "لوکیشن” Location دیکھتے ہیں اور یہ مقام کی معلومات دس میٹر کے نصف قطر تک بالکل درست معلومات فراہم کرتا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا آپ واقعی میں محفوظ ہیں؟

آپکے براؤزر کی مسلسل نگرانی:

کوکیز آپکے براؤزر (گوگل کروم، اوپرا، فائر فاکس، انٹر نیٹ ایکسپلورر وغیرہ) میں  محفوظ معلومات کو کہا جاتا ہے، آپ جب کوئی ویب سائیٹ دیکھتے ہیں تو آپکا ویب براؤزر اس ویب سائیٹ کے بارے میں معلومات اپنے پاس محفوظ کر لیتا ہےم اس کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ  آپ جب بھی دوبارہ وہ ویب سائیٹ دیکھیں تو براؤزر کو پہلے سے اس بات کا علم ہو کہ آپ یہاں پہلے بھی آ چکے ہیں، فرض کریں یہی معلومات آپکے کسی دوست کے ہاتھ لگ جائیں تو وہ آپکو ایک منٹ میں بتا سکتا ہے کہ آپنے کون کونسی ویب سائیٹ دیکھی تھی اور ان سب کا مجموعہ  اجتماعی طور پر یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ آپ انٹرنیٹ پر کس قسم کی چیزیں دیکھتے ہیں، زیادہ تر کس ویب سائیٹ پر جاتے ہیں اور کیا کیا کرتے ہیں، کیا آپ چاہیں گے کہ آپکے کسی دوست کو آپکی اس قسم کی ذاتی معلومات کا علم ہو؟ لیکن آپ نادانستہ طور پر یہ معلومات ان کو فراہم کر رہے ہیں جن کو آپ جانتے بھی نہیں۔ ذرا اس لائن پر غور کریں جو فیس بُک کی پالیسی والے صفحے پر موجود ہے:

Cookies help us provide, protect and improve the Facebook Services, such as by personalizing content, tailoring and measuring ads, and providing a safer experience.

کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ میں کل جس چیز کو گوگل میں تلاش کر رہا ہوتا تھا وہ اگلے دن مجھے فیس بُک پر کسی صفحے یا اشتہار کی صورت میں نظر آتی تھی۔ میں سمجھتا تھا جادو ہو گیا لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ میں فیس بُک دیکھوں یا نہ دیکھوں یہ موئی فیس بُک  میری ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہوتی ہے۔ مزید دیکھا تو فیس پر یہ بھی لکھا ہوا تھا:

We use cookies if you have a Facebook account, use the Facebook Services, including our website and apps (whether or not you are registered or logged in), or visit other websites and apps that use the Facebook Services (including the Like button or our advertising tools). This policy explains how we use cookies and the choices you have.

صاف صاف الفاظ میں غنڈہ گردی دکھائی جا رہی ہے کہ بھلے سے تم فیس بُک استعمال کرو نہ کرو، لاگ اِن ہو نہ ہو تم جس ویب سائیٹ پر جاؤ گے ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔ تو کُل ملا کر بات یہ ہوئی کہ شاہد صاحب کے آنے جانے اور ٹرنے پھرنے کی عادات، کھانے میں کیا پسند ہے، کس ہوٹل کا زیادہ پسند ہے، قریبی دوست کونسے ہیں جن کے ساتھ یہ موصوف زیادہ وقت گزارتے ہیں، فلمیں کیسی پسند ہیں، مذہب کی طرف کتنا میلان ہے، سیاست  میں دلچسپی کس حد تک ہے، پچھلے ہفتے میں کہاں کہاں گھومتے رہے ہیں، گھر فلانی جگہ ہے اور دفتر فلانی جگہ، اس قسم کی ویب سائیٹس دیکھنا پسند کرتے ہیں اور ٹویٹر کی آئی ڈی محض لڑکیوں کی پروفائلز دیکھنے کے لئے بنائی ہے جبکہ فیس بُک پر بھی اکثر یہی کام کرتے پائے جاتے ہیں، ساتھ میں یہ بھی معلوم پڑا ہے کہ دو دن پہلے ایک نجی آن لائن شاپنگ کی ویب سائیٹ سے  نئی پینٹ شرٹ آرڈر کی ہے جس کا رنگ اور شاہد صاحب  کے کالر اور ویسٹ کے سائز تک اب ہم یعنی فیس بُک کے پاس موجود ہیں، اکھاڑ لیں جو اکھاڑ سکتے ہیں۔

کیا آپکا فون محفوظ ہے؟

جی بالکل نہیں، کیونکہ حال ہی میں یہ تجربہ ہوا تھا کہ ایک صاحب کو اپنے فون میں ایڈ کیا   اور اگلے دن ان کی پروفائل آنکھوں کے سامنے اور فیس بُک فرمان جاری کرتے ہوئے کہ لو ایڈ کر لو، نمبر تو محفوظ کیا ہی تھا فیس بُک پر کیوں ایڈ نہیں کرتے؟ وہاں سے مزید تفتیش کی تو علم ہوا کہ آپکے فون میں موجود سارے کے سارے نمبرز فیس بُک کے پاس بھی پہنچ چکے ہیں اور ان کو علم ہے کہ ہم کس کس نمبر پر زیادہ کالیں یا ایس ایم ایس کیا کرتے ہیں۔ رہی سہی کسر تب پوری ہو گئی جب واٹس ایپ بھی فیس بُک نے خرید لی اور وہ تمام معلومات بھی ان کی گود میں آکر گِر گئیں۔

کہنے کو یہ باتیں سرسری سی ہیں لیکن جب ان کو ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا ہے تو   آنکھیں کھُل جاتی ہیں کہ ہمارے بارے میں اتنا کچھ اُن لوگوں کو معلوم ہے جن کا ہم سے دور پرے کا واسطہ بھی نہیں ہے۔

ایڈورڈ سنوڈن:

2013ء میں امریکی انٹیلی جنس ایجسنی  کے ایک فرد ایڈروڈ سنوڈن نے کچھ  دستاویز   ظاہر کیں جس میں امریکی ادارے  کی جانب سے کی جانے والی آن لائن نگرانی کو بے نقاب کیا گیا، ان دستاویز کے مطابق دنیا کے 9 بڑے ادارے اس وقت بالواسطہ طور پر اپنی سہولیات کا استعمال کرنے والے صارفین کی تمام معلومات امریکی خفیہ اداروں کو  فراہم کر رہے ہیں، ان نو اداروں میں گوگل، فیس بُک، ٹویٹر، ایپل وغیرہ کے نام سرِ فہرست ہیں۔یاد رہے کہ ان معلومات میں صرف وہی کچھ شامل نہیں جو ہم سامنے ظاہر کرتے ہیں بلکہ ہماری فون کالز، پیغامات، ای میلز، فیس بُک پر کی جانے والی چیٹ سب کچھ شامل ہے، وہ بھی جو ہم ظاہر کرتے ہیں اور وہ بھی جو ہم سب کے سامنے نہیں کرتے۔ اگر فیس بُک آپ سے یہ کہہ رہا ہے کہ  آپکی پرائیویسی ہمیں عزیز تر ہے اور آپ جو چیزیں خود تک رکھنا چاہتے ہیں وہ آپ تک ہی رہیں گی تو  ہم یہ تو مانتے ہیں کہ بظاہر جن افراد نے فیس بُک استعمال کرنی ہے ان سے محفوظ رہے گی لیکن کیا ان لوگوں سے بھی محفوظ رہے گی جو فیس بُک کے کرتا دھرتا ہیں؟ یا جن کو ہماری ذاتی معلومات نہیں ملنی چاہئے؟ اس کا جواب نہ تو میرے پاس ہے نہ ہی آپکے البتہ کچھ نہ کچھ ہم اپنے طور پر کر ہی سکتے ہیں۔ ذیل میں آپکے موبائل فون کی وہ چند سیٹنگز موجود ہیں جن پر عمل کر کے آپ "کسی حد تک” خود کو انجان اور غیر ضروری افراد سے محفوظ رکھ سکتے ہیں، عمل کرنا نہ کرنا آپکی مرضی ہے:

احتیاطی تدابیر:

  1. اپنے فون پر سکرین لاک کا استعمال لازمی کریں، پاسورڈ یا پیٹرن جو آپکا دل کرے، یہ اس صورت میں ہے جب آپ اپنے فون کے پاس نہیں ہوتے، کوئی بھی شخص آپکے فون کا غیر ضروری استعمال کر سکتا ہے یا اس میں میں معلومات چوری کر سکتا ہے، یاد رہے آجکل کے دور میں پیسے سے زیادہ معلومات اہم ہیں۔
  2. "لوکیشن سروسز” Location Services بند ہی رکھیں یا اگر بند کرنا ممکن نہیں اور آپ سفر زیادہ کرتے ہیں اور Google Maps کا استعمال آپکا معمول ہے تو اس سہولت کو While Using یعنی صرف اس وقت استعمال کیا جائے جب آپ راستہ دیکھ رہے ہوں۔
  3. فیس بُک میسنجر میں فون نمبر کی Synchronization  بند رکھیں اور فیس بُک کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے روابط دیکھ سکے۔
  4. فیس بُک میں ایک آپشن ہے جس کے ذریعے آپکی تصاویر خود بخود اپلوڈ ہو جاتی ہیں، ویسے تو صارف کی "سہولت” کا نام دیا جاتا ہے لیکن اس کو بند کر دیں اور صرف ضرورت کے وقت اپلوڈ کریں۔
  5. موبائل کے براؤزر میں کسی قسم کا پاسورڈ محفوظ نہ کریں، نہ ہی کمپیوٹر کے براؤزر میں کوئی پاسورڈ محفوظ  کریں، تھوڑی تکلیف اٹھا کر ہر بار لکھ لیا کریں، اتنی آرام پسند ی بھی نہیں ٹھیک۔
  6. آجکل اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں اقسام کے موبائلز میں ایک سہولت موجود ہوتی ہے وہ یہ کہ اگر کوئی دس بار مسلسل آپکے فون پر غلط پاسورڈ یا پیٹرن لگانے کی ناکام کوشش کرے تو دسویں بار کے بعد آپکے موبائل   کا سارا ڈیٹا  ختم ہو جاتا ہے، اس سہولت کا استعمال ضرور کریں ، بقول شاعر: میں نئی تے توں وی نئی فیر۔
  7. کوشش کریں کہ آپکے تمام تر پاسورڈز ایک جیسے نہ ہوں، اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ آپ نے مختلف اکاؤنٹس میں ایک ہی پاسورڈ استعمال کیا ہوتا ہے (تن آسانی) ، ایسا نہ کریں اور الگ الگ پاسورڈ رکھیں اور ہو سکے تو کچھ عرصہ بعد تبدیل کرتے رہیں۔
  8. گوگل کروم میں Incognito کی ایک سہولت ہے جس میں کسی قسم کی کوئی چیز کوکیز وغیرہ محفوظ نہیں کی جاتیں، کوشش کریں کہ اسی کا استعمال کریں۔
  9. فیس بُک پر اپنی لوکیشن دینے سے گریز کریں اور فیس بُک کے لئے اپنے موبائل کی لوکیشن سروسز بند ہی رکھیں۔
  10. کسی بھی قسم کی ذاتی معلومات فیس بُک پر رکھنے سے گریز کریں، یہ ضروری نہیں کہ آپ واشروم بھی جائیں تو فیس بُک پر اس کا حدود اربعہ ظاہر کریں اس کے بغیر بھی کام چل جاتا ہے۔

ان احتیاطی تدابیر میں وقتا! فوقتاً اضافہ کرتا رہوں گا، ہر انسان کی اپنی ایک زندگی ہے اور کسی کو حق نہیں کہ وہ اس زندگی میں جھانکے، اس قسم کے پلیٹ فامز بنانے والوں کی زندگی کے بارے میں ہم تو کچھ نہیں جانتے  اور بہتر یہی ہے کہ ان کو بھی کچھ جاننے کا حق فراہم نہ کریں۔

Comments