ساتویں صلیبی جنگ، معرکہ المنصورۃ اور صلیبی جنگوں کا خاتمہ

یہ تیرھویں صدی کا وسط ہے،  عیسائی یروشلم  پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ بات جانتے ہیں کہ مصر فتح کئے  بغیریروشلم پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ چھ صلیبی جنگیں گذر چکی ہیں لیکن یروشلم  اب تک مسلمانوں کے قبضے میں ہی ہے اور یہ بات عیسائیوں کو سکون لینے نہیں دے رہی۔پچھلے کچھ برسوں میں 2 مرتبہ یروشلم عیسائیوں کے ہاتھوں نکل چُکا ہے، دو بار کی مسلسل شکست عیسائیوں کا چین غارت کئے بیٹھی ہے، پہلی مجلسِ لیون میں عیسائیوں کے پادری  "انوسینٹ چہارم” نے ساتویں صلیبی جنگ کے لئے مکمل حمایت  کا اعلان کر دیا ہے اور یہ جنگ لوئی نہم  (فرانسیسی بادشاہ) کی قیادت میں لڑی جائے گی۔

اس جنگ کا اولین مقصد ، مصر میں ایوبی سلطنت کا خاتمہ کر کے یروشلم پر قبضہ کرنا ہے ، اس سلسلے میں عیسائیوں کا ایک وفد منگولوں کے سردار گیوک خان سے جا کر ملتا ہے اور کہتا ہے  کہ ہم عیسائی مغربی سمت سے  مسلمانوں پر حملہ کریں گے اور تم منگول مشرقی جانب سے ان پر حملہ آور ہونا اور اس جنگ میں ہمارے  حلیف بن جاؤ، جواب میں منگولوں کا سردار ان کا ساتھ دینے کی بجائے کہتا ہے کہ تم اور تمہارے پادری کو چاہئے کہ وہ اپنی سلطنت منگولوں کے حوالے کر دیں۔منگولوں سے نا اُمید ہونے کے باوجود بھی عیسائیوں  کے حوصلے بُلند ہیں اور جنگ کی تیاریاں جاری رہتی ہیں۔لوئی نہم کے بھائی چارلس اور رابرٹ کی قیادت میں ساتویں صلیبی جنگ کے لئے بحری بیڑے  ایگوس مارٹس  سے نکل چُکے ہیں۔صلیبی افواج قبرص سے ہوتی ہوئی مصر میں داخل ہو رہی ہیں اور وہاں سے یہ فوجیں  دمیاط پہنچ کر باقاعدہ مصر میں داخل ہونے کو ہیں۔ ادھر لوئی نہم   الصالح ایوب کو خط لکھتا ہے اور خط ملنے کے بعد  دمیاط میں فوجی مستقر کے امیر فخرالدین   یوسف   فوج کے ساتھ اشموم کی طرف پسپائی اختیار کرتے ہیں جس کا نتیجہ  یہ نکلتا ہے کہ دمیاط میں مقیم   لوگوں میں افراتفری پھیل جاتی ہے۔دمیاط کے باشندے یہ سب دیکھ کر شہر خالی کر رہے ہیں اور نیل کے اوپر بنا پُل جو کہ مغربی سمت سے شہر کو جوڑتا ہے خالی رہ جاتا ہے جسے اب صلیبی افواج پار کر کے شہر میں داخل ہو رہی ہیں  لیکن شہر پہلے ہی خالی ہو چکا ہے۔دمیاط پر عیسائی قبضے کی وجہ سے پورے مصر میں "ایمرجنسی” جسے مقامی زبان میں "النفیر العام” کہا جاتا ہے نافذ کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے قاہرہ اور مصر بھر سے لوگ  میدانِ جنگ کی طرف کُوچ کرنے لگے ہیں۔

کئی ہفتے گذر چُکے ہیں، مسلمان گوریلا جنگ پر عمل کرتے ہوئے عیسائیوں پر حملہ کر کے ان کو گرفتار کرتے ہیں اور قیدی بنا کر قاہرہ روانہ کر دیتے ہیں،  لیکن تب ہی  لوئی نہم کا تیسرا بھائی  الفونسو بحری بیڑے کے ساتھ دمیاط پہنچ جاتا ہے جس کے بعد عیسائی مزید حوصلے بُلند  کر کے قاہرہ کی طرف  پیشقدمی شروع کر دیتے ہیں۔انہی دنوں میں  ایوبی سلطان الصالح ایوبی کی وفات ہو جاتی ہے جس کو کچھ روز تک ان کی بیوہ شجر الدر خفیہ رکھتی ہیں اور  ساتھ ہی اپنے بیٹے اور سلطنت کے اگلے سلطان توران شاہ کو پیغام بھیجتی ہیں کہ فوراً پہنچ کر فوج کی کمان سنبھالے۔ادھر المنصورۃ سے 2 میل دور عیسائی افواج  مسلمانوں کے ایک کیمپ پر حملہ کرتی ہیں جبکہ حالات یہ ہیں کہ مصری سلطنت اس وقت الصالح ایوبی کی بیوہ الشر الدر کے ہاتھ میں ہیں اور فوج کی کمان پہلی بار مملوکوں کو سونپی جا رہی ہیں۔عیسائی افواج شاہی محل (منصورہ) کی جانب بڑھ رہی ہیں اور ادھر  فارس الدین اکتائی اور بيبرس البندقداري ملکہ کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ عیسائی افواج کو شہر کے اندر بُلا کر جنگ شروع کی جائے ، ملکہ الشجر الدر اس کی منظوری دے دیتی ہیں اور شہر کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ عیسائی خوش ہیں کہ یہ شہر بھی بنا کسی مزاحمت کے ہاتھ آگیا ہے اور اسی جوش میں اندر داخل ہوتے ہیں لیکن اندر فوج کے ساتھ ساتھ عام رعایا بھی ان پر ایک زوردار حملہ کرتی ہے۔ لوئی نہم کا بھائی رابرٹ مارا جاتا ہے  اور پانچ کے علاوہ باقی تمام ہیکل بردار بھی مارے جاتے ہیں، عیسائی بھاری نقصان اٹھا رہے ہیں اور اب ان کی پسپائی شروع ہو رہی ہے، وہ لاشیں اور زخمی چھوڑ کر واپس بھاگ جاتے ہیں۔

توران شاہ المنصورہ پہنچ چکا ہے اور الصالح ایوبی کی وفات کا باقاعدہ اعلان کر دیا جاتا ہے، فوج کی کمان اب توران شاہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسری جانب مسلمانوں کے بحری بیڑے صلیبی جہازوں کے عقب میں نمودار ہوتے ہیں اور ادھر مسلمان عیسائیوں کے کیمپ پر تابڑ توڑ حملے کر کے ان کو مزید نقصان پہنچا رہے  ہیں، بیشتر صلیبی بحری جہاز تباہ ہو چکے ہیں، کچھ دن مزید گزرتے ہیں اور صلیبی افواج میں بیماریاں اور خوراک کی کمی پیدا ہونے لگی ہے جس کی وجہ سے اب عیسائی فوج سے لوگ نکل کر مسلمانوں سے پناہ  میں آنے لگے ہیں۔لوئی نہم، بدترین شکست کے باوجود بھی پُر امید ہے اور مصری حکمرانوں کو خط لکھ کر کہتا ہے کہ اگر وہ شامی  سمندری پٹی کے ساتھ ساتھ کچھ شہر اور یروشلم عیسائیوں کے حوالے کر دے تو وہ دمیاط مسلمانوں کے حوالے کرنے کو تیار ہے لیکن توران شاہ کی جانب سے مکمل انکار کر دیا جاتا ہے۔

رات ہو گئی ہے اور اب عیسائی افواج اندیھرے کا فائدہ اٹھا کر دمیاط کی طرف پسپائی اختیار  کر رہی ہیں، مسلمان اب بھی ان کے پیچھے ہیں،یہیں  اس صلیبی جنگ کا فیصلہ کُن معرکہ جو کہ معرکہ فرسکر کے نام سے جانا جاتا ہے پیش آتا ہے اور مسلمان،  صلیبی افواج کو  بُری طرح  شکست دے کر لوئی نہم کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ ساتویں صلیبی جنگ اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔پچھلے کچھ عرصے سے یورپ میں یہی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ صلیبی افواج نے مسلمانوں کو شکست دے دی ہے اور ان کے سلطان کو مارا جا چکا ہے اور اب صلیبی افواج یروشلم کی جانب پیش قدمی شروع کر چکی ہیں لیکن لوئی نہم کی گرفتاری کے بعد جیسے ہی عیسائیوں کی شکست کی خبریں یورپ پہنچتی ہیں تو وہاں لوئی نہم کو بازیاب کروانے کی مہم کا آغاز ہوتا ہے۔

بعد کے حالات:

اس جنگ میں پندرہ ہزار سے تیس ہزار کے قریب عیسائی مارے گئے تھے، لوئی نہم اور اس کے دو بھائی چارلس اور الفونسو کو امیر  ابراہیم ابن لقمان اور ان کے محافظ صبیح المعظمی  نے گرفتار کر کے اپنے گھر میں بیڑیاں پہنا کر قید کر دیا، بعد ازاں شہر کے باہر  ایک خیمہ لگایا گیا اور لوئی نہم  کو اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ دوبارہ مصر کی طرف پیش قدمی نہیں کرے گا اور ساتھ  چار لاکھ دینار بھی ادا کرے گا۔لوئی نہم اور اس کے بھائیوں کو بارہ ہزار قیدیوں کے ہمراہ رہا کر دیا گیا ، دمیاط مسلمانوں کے قبضے میں واپس آگیا اور لوئی نہم عاکہ طرف واپس چلا گیا۔اس جنگ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس جنگ  نے مصنفوں اور شاعروں کو بہت متاثر کیا،  جمالدین، ایک تاریخ دان  نے کچھ ان الفاظ میں اس صلیبی جنگ  کے بارے میں لکھا:

"اگر وہ (صلیبی فوج) بدلے کے لئے  یا کسی  بُری نیت سے واپس آنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کو بتا دو کہ ابنِ لقمان کا گھر بھی وہیں ہے ، وہ بیڑیاں بھی وہیں ہیں اور صبیح بھی ادھر ہی ہوتا ہے”

ساتویں صلیبی جنگ آخری صلیبی جنگ تھی، اور صلیبی جنگوں میں کبھی بھی عیسائی یروشلم پر قابض نہ ہو سکے،اس جنگ کے کچھ عرصہ بعد توران شاہ کو فرسکر میں قتل کر دیا گیا اور یہاں سے ایوبی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور مصر مملوکوں کے پاس آگیا۔ لوئی نہم کے علاوہ کسی دوسرے عیسائی بادشاہ نے صلیبی جنگ کے ذریعے یروشلم پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

Comments