کمزور جسم کو موٹا اور خوبصورت (نہ) بنائیں۔۔

آجکل ویسے تو بہت سے مسائل بڑے مسائل میں شمار ہوتے ہیں لیکن ایک ایسا مسئلہ جس کا کوئی علاج نہیں مل سکا وہ ہے موٹاپا، گو کہ ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھ رکھے ہیں  جو ڈھائی مَن سے  ایک مَن پر آگئے اور دیکھ کر گُمان ہی ہوتا ہے کہ شاید ان کے پاس کرنے  کو اور کچھ نہ تھا تو وزن کم کرنے میں لگ گئے لیکن خیر سے انہوں ناممکن کو ممکن بنا کر ہی دم لیا۔ لیکن ہم یہاں موٹوں کا ذکر ہرگز کرنے نہیں آئے ہم یہاں ایک پراڈکٹ کا تیا پانچا کرنے آئے ہیں۔ ذرا یہ جملہ پڑھیں: کمزور جسم کو موٹا اور خوبصورت بنائیں۔ یہ جملہ آجکل باہر نکلیں تو ہر دوسری دیوار پر درج ہے اور صرف یہی نہیں آپکو ہوم ڈلیوری کی سہولت بھی ملتی ہے  اور  اگر آپ یہ ‘دوا’ استعمال کرتے ہیں تو آپکا وذن بھی بڑھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ اچھا ہے تو استعمال میں کیا مضائقہ ہے۔

ایک چیز ہوتی ہے بلکہ ایک  طرح سے دوا ہی کہہ لیں، اس کو سٹیرائیڈزSteroids کہا جاتا ہے، یہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک Corticosteroids اور دوسرے Anabolic ، اول الذکر  مختلف  قسم کی بیماریوں جن میں بیشتر تو سوزش سے تعلق رکھتی ہیں اور بعض ھالات میں انسانی جسم میں ہارمون کی کمی اور اگر آپکے جسم کا دفاعی نظام ضرورت سے زیادہ تیز ہے تو اس کو کم کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ جن افراد کے جسم میں کسی اعضاء کی پیوند کاری ہوئی ہو ان کو بھی Corticosteroids ڈاکٹر تجویز کرتے ہیں۔ مؤخرالذکر قسم زیادہ تر طاقت کے لئے وہ افراد استعمال کرتے ہیں جن کا تعلق کھیل کے میدان سے ہوتا ہے گو کہ ان کا استعمال بنا ڈاکٹر کے مشورے کے قطعی نا مناسب اور غیر قانونی ہے لیکن تقریباً ساری دنیا میں یہ بنائے اور بیچے اور استعمال کئے جاتے ہیں۔تفصیل میں جائے بغیر بتاتے چلیں کہ ‘دوا’ جو جسم کو خوبصورت اور موٹا بنانے کے لئے ہوتی ہے کہ دراصل سٹیرائیڈز ہی ہیں اور اس سے وذن اس لئے بڑھتا ہے کہ یہ آپکے جسم میں موجود  اوضاء اور خلیات میں پانی کو روک دیتا ہے  اس عمل کو انگریزی میں Water Retention کہا جاتا ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپکا جسم پھول جاتا ہے، دراصل یہ پھُلاوٹ ، ورم ہوتی ہے اور ہم سمجھنے لگتے ہیں کہ دوا نے اثر دکھانا شروع کر دیا اور وذن بڑھنے لگا۔ سچائی کا علم تب ہوتا ہے جب آپ اس کا استعمال بند کرتے ہیں پھر وذن ایسے گرنا شروع ہوتا ہے کہ جیسے غبارے سے ہوا نکلتی ہے، جسم میں پانی کا ٹھہراؤ ختم ہوجاتا ہے اور خلیات میں موجود وافر پانی پیشاب میں جسم سے باہر نکل جاتا ہے، نتیجہ، وذن واپس پہلی جگہ آجاتا ہے اور یوں جو شخص وزن بڑھنے کے چکر میں پہلے ہی  نااُمید ہوتا وہ منفی نتائج دیکھ کر مزید ناامید ہو جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے مُلک میں یہ کام دھڑا دھڑ ہو رہا ہے اور اس کو روکنے والا کوئی نہیں۔ اگر یہ سب پڑھ کر بھی کسی کا دل کرتا ہے  یہ سب استعمال کرنے کا تو اس سے پہلے اس کے منفی اثرات بھی پڑھتے جائیں۔

  1. چہرے پر داغ دھبے
  2. چکنائی والی جلد
  3. رنگ پیلا ہونا (آپنے دیکھا ہوگا جو اونچے درجے کے جلدی بنے باڈی بلڈر ہوتے ہیں ان کا رنگ کیسا ہوتا ہے)
  4. بالوں کا تیزی سے گرنا
  5. دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
  6. امراضِ قلب کا خطرہ اور دل کا سائز بڑھ جاتا ہے
  7. امراضِ جگر اور جگر کے کینسر کے خطرات
  8. جسم میں کالیسٹرول بڑھ جاتا ہے

اگر آپکی عمر بیس برس سے کم ہے اور پھر بھی آپ خود استعمال کرتے ہی یا کوئی استعمال کرواتا ہے تو اس کے نتائج یوں ہو سکتے ہیں کہ لڑکوں کے قد کی بڑھوتری رُک جاتی ہے اور  لڑکیوں کی جسامت  بہت حد تک لڑکوں سے مماثلت اختیار کرنے لگتی ہے اور یہ اثرات جلدی زائل ہونے والے نہیں ہوتے۔اس کے علاوہ جسم کے مختلف حصے بشمول  گردن اور چہرے پر پانی  والے داغ نمودار ہو سکتے ہیں جن کو انگریزی میں Water Blister کہتے ہیں اور جسم میں پانی ضرورت سے زیادہ مقدار آپکے گُردوں پر اثر ڈال سکتی ہے جس سے آپکے گُردے ہمیشہ کے لئے سُکڑ  کر ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

اب یہاں تک پڑھ کر یہ بالکل مت سوچیں کہ آپکا وذن کبھی بڑھ ہی نہیں سکتا لیکن اگر آپنے واقعی وذن بڑھانا ہے تو سب سے اہم بلکہ اہم ترین چیز باقاعدگی ہے، اگر آپ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں تو آپکو باقاعدگی سے ایک بنی بنائی روٹین سامنے رکھ کر چلنا پڑے گا۔ کچھ عرصہ چھوڑا تو پھر باقاعدگی قائم نہیں رہے گی اور آپ کہیں گے کہ ایوئیں اس کے چکروں میں پڑ گئے وزن تو بڑھنا نہیں اور پھر آپ خود کو آئنے میں دیکھ کر کُڑھنا شروع کر دیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وزن بڑھانے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں، اگر آپکو کوئی یہ کہتا ہے کہ فلانا کام کرنے سے ہفتے میں وذن بڑھنا شروع ہو جائے گا تو کُوڑھ مارتا ہے ایسا ممکن نہیں، ایسی کوئی شیشی آج تک ایجاد نہیں ہوئی جو آپکو ایک گھنٹے میں ‘کیپٹن امیرکا’ بنا کر کمرے سے باہر نکال دے۔ وزن بڑھنا آسان ہے اور کم ہونا مشکل  لیکن جب  یہی کام اُلٹ ہو جائے جیسے ایسے لوگ جو جتنا بھی کھا لیں ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ وزن بڑھنے کی بجائے مزید کم ہو چُکا ہے بلکہ ایک بار یہ ُڑھیں:

آپ بہت کھاتے ہیں اور کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ اچھا خاصا کھانے کے بعد آپ امید کرتے ہیں کہ اب وذن بڑھنا شروع ہو جائے لیکن نیتجہ وہی ڈھاک کے تین پات، آپ کھانا کھاتے ہیں اور کھانے کے کچھ دیر بعد ہی آپکو حاجت محسوس ہوتئ ہے؟ یعنی آپکا نظامِ ہضم اتنا تیز ہے کہ کھاتے ہی کھانا ہضم ہو جاتا ہے اور آپکے جسم کو پوری توانائی نہیں مل پاتی۔ آپ جتنا مڑضی کھا لیں آپکا وزن نہیں بڑھتا۔ آپنے مختلف لوگوں کے بتائے ہوئے مختلف ٹوٹکے استعمال کر لئے ہیں لیکن وذن وہیں کا وہیں ہے۔ کبھی کبھی اپنے سے صحت مند افراد کو دیکھ کر آپکو کوفت ہونے لگتی ہے کہ آپک وذن کیوں نہیں بڑھتا؟ اگر ایسا ہے تو پھر نیچے دی گئی باتوں پر باقاعدگی سے عمل کریں انشاءاللہ  فرق ہوگا لیکن شرط باقاعدگی ہے۔ایک بار پھر سے ذہن نشین فرما لیں کہ  باقاعدگی آپکے کھانے سے زیادہ ضروری چیز ہے۔

  • اپنے جسم میں پانی کا خیال رکھیں، جتنا ممکن ہو پانی دن میں پانی پئیں،آٹھ سے دس گلاس آپکا روز کا معمول ہونا چاہئے اور اگر آپ اس سے زیادہ پی سکتے ہیں تو زیادہ اچھی بات ہے۔ سادہ پانی بھی طاقت رکھتا ہے اور انتہائی ضروری ہے۔ پانی کا خاص خیال رکھیں۔
  • ایک لٹر پانی کی بوتل میں اگر آپ دو لٹر پانی بھرنے کی کوشش کریں گے تو پانی بہہ جائے گا، لیکن انسانی جسم کے معاملے میں ایسا نہیں ہے، اپنی روز مرہ کے کھانے کو نوٹ کریں اور دیکھیں کہ آپ ایک دن میں کتنی کیلوریز خرچ کر رہے ہیں یہ اس لئے ضروری ہے کہ باقاعدگی کے بعد آپکو وزن بڑھانے میں سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوگا۔ اپنے جسم کو ایک غبارہ تصور کریں اور اس میں اگر آپ روز آدھا لٹر پانی ڈال رہے تھے تو اب سے پونے ایک یا ہو سکے تو ایک لٹر پانی ڈالنا شروع کریں، کیا ہوگا؟ جتنا وہ آدھے لٹر پانی سے پھولتا تھا اس سے ڈبل پھولنا شروع ہو جائے گا۔ آسان  الفاظ میں آپکا جسم جتنی توانائی استعمال کر رہا ہے اس سے زیادہ اسے ملے گی تو باقی بچ جانے والی توانائی سے آپکا وذن بڑھے گا۔ آپنے وزن بڑھانا ہے تو زیادہ کھانے کی عادت ڈال لیں، یاد رکھیں ہفتے میں ایک آدھ بار زیادہ کھانے سے کبھی وزن نہیں بڑھتا، یہ  کام آپکو روز کرنا ہوگا ۔ ایک روٹی کھاتے ہیں تو اس کو ڈیڑح کر لیں بلکہ اگر دو کھا سکتے ہیں تو دو کھائیں۔
  • اب اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں تو ایک روٹی کے بعد ہی اتنا محسوس کرتا ہوں کہ میں نے زیادہ کھا لیا تو ایسے کام نہیں چلے گا، اگر آپ تین وقت کا زیادہ نہیں کھا سکتے تو دن میں پانچ وقت تھوڑا تھوڑا کھائیں لیکن پورے دن کی بات آئے تو آپکے کھانے کی مقدار پہلے کے معاملے میں زیادہ ہونی چاہئے۔ آہستہ آہستہ زیادہ کرتے جائیں یا اگر پھر بھی زیادہ کھانا دشوار ہے تو اماں جی کے پاؤں پڑ جائیں کہ روٹی جب آپکے سامنے آئے تو اس پر دیسی گھی لگا ہوا ہو، یہ زائد اور ؛دیسی’ گھی وافر توانائی ہے، یہ آپکی آدھی روٹی زیادہ کھانے کے برابر ہے۔
  • پروٹینProteins یہ ایک اہم جزو ہیں جس سے آپکی جسامت بنتی ہے، جیسے کاربوہائیڈریٹس یعنی کاربس وغیرہ ضروری ہیں ویسے ہی یہ بھی ضروری ہیں، دودھ سے بنی تمام اشیاء میں پروٹین موجود ہے، ان کااستعمال بھی آپکے لئے وافر توانائی کا سبب بن سکتا ہے، اس کے علاوہ مرغی کے سینے والے حصے میں پایا جاتا ہے، انڈے کی سفیدی میں بھی موجود ہوتا ہے۔ آجکل گرمیاں ہیں اس لئے انڈے اگر کھائیں تو سفیدی سے کام چلائیں، زردی ہفتے میں ایک سے دو بار رکھیں ، یرقان کی صورت میں کمپنی ذمہ دار نہ ہوگی۔
  • ورزش ضروری ہے، یقین جانیں، ہم نے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے بھی سو مر کے دیکھ لیا لیکن وہ اور ہی لوگ ہوتے ہیں جو کھا پی کے سو جائیں تو وذن بڑھنا شروع ہو جاتا ہے ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔نیند آٹھ گھنٹے کی بہت ہے، کسی جِم چلے جائیں اور ورزش شروع کر دیں، وزن تھوڑا تھوڑا اٹھائیں ، اور وہاں موجود لوگوں کی باتوں سے دل برداشتہ مت ہوں، ایک دن آئے گا جب آپ پچاس کلو کی بوری اٹھا کر چکی پر پِسنے دینے خود جائیں گے۔ ورزش اس لئے ضروری ہے کہ آپ جو کچھ کھائیں گے وہ آپکے جسم کو لگنا بھی چاہئے۔ورزش سے پہلے ایک دو آلو اُبال کر کھا لیں، ورذن کریں ، اگر دورانِ ورزش آپکو سانس پھولتا ہے یا سر بھاری ہوتا ہے تو کھانے میں ٹھنڈی چیزوں جیسے پودینے کی چٹنی وغیرہ کا استعمال کریں اور تیس چالیس روپے کا ایک Glucose کا ڈبہ لے آئیں اور ورزش کرتے وقت زیادہ پسینہ آنے یا تھکنے کی صورت میں ایک دو گھونٹ کر کے پیتے رہیں، یہ ایک تو آپکے جسم میں اضافی توانائی پہنچائے گا دوسرے  آپکی پانی کی ضروریات کو پورا کرتا رہے گا۔لیکن اس کے زیادہ استعمال سے آپکا پیٹ نکل سکتا ہے اس لئے بس مناسب استعمال کریں۔ ورزش کے بعد آکر (ورزش کے بعد آدھے گھنٹے کے اندر) کیلے کاشیک بنا کر پی لیں، کیلے کا شیک بھی وذن بڑھانے میں معاون ہے۔ پھر کچھ دیر بعد کھانا کھائیں، ورزش کے بعد کھاتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ آپنے روٹین کے مقابلے میں زیادہ کھایا ہے۔
  • یاد رکھیں انسانی جسم میں دو طرح کا کالیسٹرول ہوتا ہے، ایک اچھا اور ایک بُرا، چکنائی یا تلی ہوئی چیزوں سے آپکو بُری قسم کا کالیسٹرول ملے گا، یہ ہلکی پھلکی مقدار میں کھانہ ٹھیک ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال دل کے عارضے کا سبب بن سکتا ہے۔جنک فُوڈ جیسے برگر، پیزا وغیرہ آپکا وزن بڑھا سکتے ہیں لیکن یہ وزن اچھا وزن نہیں ہوگا۔
  • شروع میں پانی زیادہ پینے کا کہا لیکن کھانے سے گھنٹہ بھر پہلے پانی مت پئیں، اس سے آپکا معدہ بھر جائے گا اور پھر آپ کھانا پوری مقدار میں نہیں کھا سکیں گے۔
  • اگر آپ چھوٹی پلیٹ میں کھاتے ہیں تو اس بار کھانے کے لئے بڑی پلیٹ کا استعمال کریں، بیشک تیزی میں کھائیں اور یہ کہ اچھی طرح چبانے میں سارا سال مت لگا دیں، چبائیں مگر سست روی سے مت چبائیں، بڑے بڑے نوالے بنا کر کھائیں اور کھانے کی رفتار تیز رکھیں، اس سے آپکے زیادہ کھانے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔

اللہ نے ہمارے جسم میں ایک خودکار نظام بنایا ہے، جسم اپنی ضروریات کے مطابق خود کو بیلنس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب آپ زیادہ کھانا شروع کریں گے تو ممکن ہے کہ آپکا جسم آپکا Metabolism یعنی تحول کی رفتار تیز کر دے اور آپکو بھوک لگنا کم ہو جائے لیکن گھبرانے کی ضرورت بالکل نہیں، باقاعدگی برقرار رکھیں  اور بھوک نہ ہونے پر بھی کھانا ضرور کھائیں، پتلے لوگ جانتے ہیں کہ رمضان میں بنا کچھ کھائے بھی روزہ رکھ لیں تو سارا دن ان کو بھوک پیاس موٹے لوگوں کے مقابلے میں بہت کم لگتی ہے وہ اسی لئے ہے کہ ان کا جسم کم توانائی مانگتا ہے۔ اپنے جسم کو زیادہ توانائی کا عادی بنائیں، وقت کے ساتھ ساتھ آپ دیکھیں گے کہ آپکا وزن بڑھنا شروع ہو چُکا ہے۔ یاد رکھیں  وزن بڑھانا خاص طور پر پتلے افراد کے لئے وزن بڑھانا بالکل آسان جکام نہیں  لیکن صرف دو باتوں پر عمل آپکو وزن بڑھانے میں بہت مدد دے سکتا ہے، وقت لگے گا لیکن نتیجہ ضرور نکلے گا۔ وہ دو کام یہ ہیں:

  1. باقاعدگی
  2. آپکا پیٹ ہر وقت بھرا ہونا چاہئے، اتنا بھرا ہوا کہ آپ بھاری محسوس کرنے لگیں ۔ زیادہ کھائیں جتنا زیادہ ہو سکتا ہے، تین وقت مکمل کھائیں اور زیادہ سے زیادہ کھائیں۔ اگر ایک نشست میں زیادہ نہیں کھا سکتے تو اس کو دو پر تقسیم کریں اور دن میں چار سے پانچ بار کھائیں۔

کسی قسم کی شکایت یا اس مضمون میں اضافے کے لئے تبصرہ کر کے ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں یا کچھ جاننا چاہیں تو بھی تبصرے میں  لکھ دیں، فارم نے کام کیا تو ہمیں اطلاع مل جائے گی ۔

Comments