النکبۃ: جب سات لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو بے گھر کیا گیا۔

موجودہ صدی یا حالیہ دور کی اسلامی تاریخ میں ایک اہم  حصہ عرب اسرائیل جنگ کی نظر ہو گیا،  تاحال  بین الاقوامی اسلامی روابط میں اس مسئلے کو ایک الگ ہی اہمیت حاصل ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں  ایک بہت بڑا مسئلہ تب پیش آیا جب اسرائیل نامی مملکت کی بنیاد رکھی گئی، یہودی مملکت کا یہ قیام وہاں موجود سات لاکھ سے زائد مسلمانوں پر قیامت بن کر گِرا، ان سات لاکھ سے زائد مسلمانوں کو  ان کے اپنے ہی گھروں سے نکال باہر کیا گیا، اور وہ جو برسوں سے اپنے ہی گھروں میں ایک سکون کی زندگی گزار رہے تھے، یک دم بے گھر ہو کر  پناہ گزین کہلانے لگے۔ تاریخ میں اس واقعہ کو "النکبۃ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ النکبۃ  سے مراد  ہے تباہی، یا کوئی بہت بڑا ایسا واقعہ جسکا نتیجہ اچھا نہ ہو۔

پس منظر:

1800ء  میں یورپ میں ایک قوم پرست تحریک کا آغاز ہوا، صیہونیت اس وقت فقط ایک سیاسی  تحریک تھی جس کا مقصد یہودیوں  کو ایک الگ اور آزاد مملکت قائم کر کے دینا تھا جہاں وہ ان مظالم، اور اس امتیازی سلوک سے آزاد ہوں جو یورپ میں صدیوں سے ان کے ساتھ روا رکھا جا رہا تھا۔1867ء میں پہلی صیہونی کانگریس منعقد ہوئی، اس بات پر کافی بحث کے بعد کہ یہ آزاد یہودی مملکت کہاں قائم کی جائے، فلسطین کا نام پیش کر دیا گیا۔فلسطین اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ سایہ تھا۔ اسرائیل کے قیام کی پہلی کوشش کے طور پر، عبدالحمید دوئم جو کہ اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کے حکمران تھے کو 15 کروڑ برطانوی پاؤنڈ کا لالچ دیا گیا کہ وہ فلسطین کو یہودیوں کے ہاتھ فروخت کر دیں، غیرت مند خلیفہ  نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر تم ساری زمین بھی سونے کی بنا کر مجھے دے دوتب بھی یہ ممکن نہیں۔وقتی طور پر یہودیوں کے لئے ایک الگ مملکت کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا لیکن پھر پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہو گیا اور 1917ء میں برطانیہ نے خلافتِ عثمانیہ سے جنگ کر کے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ف؛سطین فتح کرنے کے بعد برطانوی سیکٹری خارجہ آتھر بیلفور نے صیہونی  تحریک کے سامنے اعلان کیا کہ وہ ایک الگ یہودی مملکت کے قیام میں ان کی مکمل مدد کرے گا۔

1920ء میں فلسطین ان ممالک میں شامل ہو گیا جو کہ برطانوی راج میں شامل تھے اور وہاں موجود برطانوی اثر رسوخ کا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ سے یہودیوں کی ایک خاصی بڑی تعداد نے فلسطین کی طرف ہجرت کی۔ اس بات کا اندازہ   برطانوی مردم شماری سے لگایا جا سکتا ہے کہ  1922ء تک فلسطین میں صرف 83،790 یہودی آباد تھے جن کی تعداد 1931ء تک  175،000 سے بھی تجاوز کر گئی اور 1945ء تک یہ تعداد چھ لاکھ کے قریب پہنچ چکی تھی، 25 برس کے عرصہ میں یہودی جو کہ فلسطینی آبادی کا صرف 11 فیصد ہوا کرتے تھے اب 31٪ ہو چکے تھے۔فلسطین میں موجود عرب اس بات سے خوش نہ تھے اور وہاں آپسی تعلقات بھی کسی قدر خراب ہی چلے آرہے تھے جب برطانیہ نے فیصلہ کیا کہ وہ فلسطین کا علاقہ خالی کر نے جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ اس وقت نئی نئی معرض وجود میں آئی تھی، اس نے جب دیکھا کہ برطانیہ تو فلسطین خالی کر رہا ہے اور اس کے جاتے ہی عرب اور یہودیوں میں ایک جنگ ناگزیر ہو جائے گی اس لئے اس نے ایک پلان ترتیب دیا جسے "اقوامِ متحدہ کا منصوبہ برائے تقسیمِ فلسطین” کہا جاتا ہے، اس منصوبے میں دو الگ ممالک کے قیام  کی تجویز پیش کی گئی، ایک اسرائیل ، یہودیوں کے لئے اور ایک عربوں کے لئے، فلسطین۔یہودیوں نے اس منصوبے کے لئے حامی بھر لی جبکہ عرب مسلمانوں نے اس منصوبے کو سرے سے ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ مقامات جو مسلمانوں کے لئے صلیبی جنگوں کے بعد سے بہت اہمیت رکھتے تھے اب زور زبردستی سے یہودیوں کو دئیے جا رہے تھے۔منصوبہ ناکام رہا اور یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ بڑھتا گیا بڑھتا گیا۔

انخلاء:

14 مئی 1948ء، فلسطین میں برطانوی راج اپنے اختتام کو پہنچا اور برطانیہ فلسطین چھوڑ کر چلا گیا، اس کے جاتے ہی صیہونیت نے  اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا، مسلمانوں نے شدت کے ساتھ اس اعلان کی نفی کی  اور یہودیوں پر حملہ کر دیا۔1948ء کی عرب اسرائیل جنگ کا نتیجہ مسلمانوں کے خلاف نکلا اور فلسطین میں یہودیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو گیا، جنگ ختم ہونے تک اقوامِ متحدہ نے جن علاقوں کی منصوہ سازی کی تھی اس سے  بہت زیادہ علاقہ  اب یہودیوں کے قبضہ میں تھا۔اس جنگ میں جو علاقہ مسلمانوں سے چھین کر اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا وہ تو اپنی جگہ، لیکن جو حال ان مسلمانوں کا ہوا جو وہاں  رہائش پذیر تھے وہ اس سے زیادہ خطرناک تھا۔ موجودہ اسرائیل  کے آس پاس دس لاکھ سے زائد مسلمان تھے جو وہاں آباد تھے، ان میں سے بمشکل دو لاکھ ایسے تھے جو وہا رہے باقی ماندہ تمام کے تمام مسلمان پناہ گزینوں کی حیثیت سے اپنے ہی گھروں کو چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو گئے۔

جنگ کے بعد سب سے بڑا مسئلہ پناہ گزینوں کی آباد کاری کا ہوتا ہے، تاریخ اور بالخصوص فلسطین کی تاریخ میں

1948ء میں فلسطینی پناہ گزین

سیاست کا بہت بڑا عمل دخل رہا ہے، فلسطین سے مسلمانوں کے خروج کی تاریخ پر ایسے ہی سیاست اور اندرونی معاملات اثر پذیر ہوئے، بہت سے تاریخ دانوں نے مسلمانوں کے اس خروج پر اپنی اپنی آراء دی ہیں ، ان تاریخ دانوں میں خود یہودی تاریخ دان بھی  شامل ہیں ، وہ وجوہات جن کی بنا پر فلسطینی مسلمانوں کو اپنے گھر اور اپنے علاقے چھوڑنے پڑے ان میں کئی عوامل کار فرما تھے جیسے ڈر کیونکہ  فلسطینی مسلمانوں پر کئی مرتبہ یہودیوں نے حملہ کیا اور ان کا قتلِ عام کیا گیا، ایسا ہی ایک واقعہ 9 اپریل 1948ء کو  یروشلم کے قریب موجود ایک قصبے دیر یاسین میں پیش آیا جب 120 مصلح یہودیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا، 700 سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا گیا جبکہ سینکڑوں لڑائی میں شہید ہوئے، اس کے علاوہ گھروں میں بند مسلمانوں کے گھروں میں دستی بم پھینک کر ان کو شہید کیا گیا، یہی نہیں اس قتلِ عام کے بعد جو باقی بچے ان کو گلیوں میں باہر نکال کر شہید کر دیا گیا۔اس واقعہ کا اثر یہی ہوا کہ ہزاروں مسلمان اپنے اپنے علاقے اور آباد گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے صرف اس لئے کہ ان کی عزت ، جان اور مال کو ان یہودیوں سے خطرہ تھا۔یہی نہیں یہودیوں نے دیر یاسین کے اس واقعہ کو ذہنی ہتھیار بنا کر استعمال کیا، ریڈیو پر عربی میں اعلانات نشر کئے گئے کہ مسلمانوں تم یہودیوں کے حملوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

دمشق، شام میں ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ۔

قتل و غارت کے علاوہ اسرائیلی جن جن علاقوں پر قبضہ کرتے وہاں سے مسلمانوں کو باہر نکال دیتے، ایسے کچھ واقعات  یروشلم کے قریب موجود لُد اور رملہ کے شہروں میں پیش آئے جب اسحاق رابین نے وہاں سے مسلمانوں کے زبردستی  انخلاء کے حکم نامے پر دستخط کئے (یاد رہے یہی اسحاق رابین تھا جسے بعد میں امن کا نوبیل انعام ملا)۔ ان شہروں سے پچاس ہزار سے ستر ہزار تک مسلمانوں کو نکالا گیا، کچھ کو بسوں کے ذریعے عرب  سرحدوں تک پہنچایا گیا اور باقیوں کو پیدل نکل جانے پر مجبور کیا، صرف اتنی اجازت دی گئی کہ جو چاہو گھروں سے لے جا سکتے ہو۔1948ء کے اس جبری انخلاء میں 500 سے زائد شہر مسلمانوں سے خالی کروائے گئے، ان شہروں سے سات لاکھ سے زائد مسلمان بے گھر ہوئے صرف یہی نہیں، 1954ء میں اسرائیل نے قانون پاس کیا کہ جو فلسطینی، اسرائیل کے قبضہ کئے گئے علاقوں میں دوبارہ واپس آئے اس کو زور زبردستی سے نکال دیا جائے گا۔یہ قانون آج تک اس بے گھر فلسطینی مسلمانوں پر لاگُو ہوتا ہے اور دنیا کے نام نہاد امن و مان قائم کرنے والے ادارے اس ناانصافی کا ازالہ کرنے میں ناکام  رہے ہیں، دکھ تو اس بات کا ہے کہ جن فلسطینی مسلمانوں کو شہید کیا گیا، ان کو انکے اپنے گھروں سے نکالا گیا ، وہی مسلمان جب ان احسان فراموشوں سے اپنا حق واپس مانگتے ہیں تو ان کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر مزید ظلم و ستم ڈھایا جاتا ہے۔

تیری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں

فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے

Comments