اسلامک ٹائم لائن

قبلِ اسلام: رسول اللہ ﷺ کا شجرہ مبارک

قبلِ اسلام: اسلام کے آنے سے پہلے عرب کا کیا حال تھا؟

7نبوی: حضرت عمر رضی اللہ نے اسلام قبول کیا۔

7نبوی: حضرت عمر رضی اللہ نے اسلام قبول کیا (حضہ دوئم)

10 تا 13 نبوی: اوس اور خزرج کا قبولِ اسلام، بیعتِ عقبہ اول اور بیعت عقبہ ثانی ہوئی۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ نے بلال ابن رباح کو امیہ بن خلف سے خرید کر آزاد کیا۔

1 ہجری: آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔

2 ہجری: حق و باطل کا پہلا معرکہ جسے غوہ بدر کے نام سے جانا جاتا ہے پیش آیا، تین سو تیرہ مسلمان ایک ہزار کفار کے سامنے تھے۔

3 ہجری: غزوہ احد پیش آیا۔

5 ہجری: غزاوہ احزاب پیش آیا جسے غزوہ خندق کے نام سے بھی جانتے ہیں جس میں پہلی بار مسلمانوں نے خندق کا استعمال کیا۔

5 ہجری: مدینہ میں موجود قبیلہ بنو قریظہ کے مردوں کو قتل کیا گیا۔

6 ہجری: صلح حدیبیہ اور بیعتِ رضوان کے واقعات پیش آئے جس نے مکہ کی فتح کی راہیں ہموار کی، اللہ نے اسے کھُلی فتح کا نام دیا۔

6 ہجری: آپ ﷺ نے مختلف ممالک کے سلاطین کو خطوط لکھ کر اسلام کی دعوت دی۔

7-9 ہجری: رسول اللہ ﷺ نے ہرقل کو خط لکھا۔

7 ہجری: غزوہ خیبر ہوا۔

8 ہجری: غزوہ حنین میں جب مالِ غنیمت تقسیم ہوا تو مکہ والوں کو اونٹ اور بکریاں دی گئیں۔

8 ہجری: رسول اللہ ﷺ نے دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ کا رُخ کیا اور بنا کسی قسم کی جنگ کے مکہ فتح کر لیا۔

10 ہجری: آپ ﷺ نے مکہ کا رُخ کیا، اپنی زندگی کا پہلا اور آخری حج کیا اور اسی موقع پر آخری خطبہ دیا جسے خطبہ حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔

10 ہجری: آپ ﷺ نے دارِ فانی سے کُوچ کیا۔

10 ہجری: آپ ﷺ کی متروکات۔

10 ہجری: آپ ﷺ کے کھانے اور طعام کے معمولات۔

10 ہجری: خلافتِ راشدہ اور آپ ﷺ کا فرمان۔

13 ہجری: خلافت کو لیکر جو اصلاحات حضرت عمر رضی اللہ نے نافظ کیں۔

14 ہجری: بویب کا واقعہ پیش آیا اور اس پر حضرت عمر نے اپنے ردِ عمل کا ظہار کیا۔

14 ہجری: حضرت عمر رضی اللہ کی خلافت اور فتوحات پر ایک نظر۔

15 ہجری: قادسیہ پر اسلامی لشکر کشی ہوئی اور حضرت سعد بن ابی وقاص کے ہاتھوں فتح ہوا۔

15 ہجری: یرموک کی جنگ لڑی گئی۔

16 ہجری: بیت المقدس فتح ہوا اور حضرت عمر نے یروشلم کا سفر کیا۔

16 ہجری: جلولا کا معرکہ پیش آیا۔

20 ہجری: 14 ماہ کے محاصرے کے بعد اسکندریہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا۔

23 ہجری: حضرت عمر رضی اللہ عنہ، ابو لولو فیروز نامی ایک مجوسی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

23 ہجری: حضرت عمر رضی اللہ کا رہن سہن انتہائی سادہ تھا۔

415 ہجری: محمود غزنوی نے سومنات کا مندر فتح کر کے وہاں موجود بت کو پاش پاش کر دیا۔

907 ہجری: اندلس میں آخری اسلامی حصار غرناطہ بھی گر گیا۔